
سوشل میڈیا
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت اور واضح جواب دیا ہے، جس سے خطے میں مزید تناؤ بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران نے دو دن کے اندر بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکہ اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا۔ اس دھمکی کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا خیال دراصل ایک ایسی مایوسی کی علامت ہے جو ایک مضبوط قوم کے عزم کے سامنے بے بس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیاں ایران کے حوصلے کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرتی ہیں۔
Published: undefined
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے، سوائے ان کے جو ایران کی خودمختاری اور سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے خطے کے عوام کو بھی خبردار کیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار اسماعیل ثاقب اصفہانی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ممکنہ ہنگامی حالات کے پیش نظر پانی ذخیرہ کر لیں اور اپنے فون چارج رکھیں۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایرانی توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے میں بڑے پیمانے پر بجلی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر نہایت اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے باعث نہ صرف عالمی توانائی منڈی متاثر ہوتی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی شدید اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے اس خدشے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined