’ایران کی میزائل انڈسٹری کو مٹی میں ملا دیں گے، فوری طور پر ہتھیار ڈالے آئی آر جی سی‘، حملے کے بعد ٹرمپ کا پہلا بیان

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’امریکہ ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘‘

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

ایران پر امریکی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا بیان دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حال ہی میں امریکہ نے ایران میں ’میجر کامبیٹ آپریشنز‘ (بڑی جنگی کارروائیاں) شروع کی ہیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان فوجی کارروائیوں کا مقصد امریکی عوام کی حفاظت اور ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق فوری خطرات کو ختم کرنا ہے۔

امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو ’انتہائی سخت اور خطرناک گروہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا۔ ان کے مطابق ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔


ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کر دیں گے اور ان کی میزائل انڈسٹری کو مٹی میں ملا دیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے ایرانی فوج آئی آر جی سی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ طور پر کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ تاہم ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائی ہوا اور سمندر دونوں راستوں سے کی جا رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی وسائل کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی ہے، جسے ٹرمپ نے ایک ’عظیم الشان بحری بیڑے‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کے سب سے بڑے جنگی جہازوں میں شامل یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی شامل ہیں۔ فورڈ امریکہ کا جدید ترین اور دنیا کا سب سے بڑا ایئرکرافٹ کیریئر (طیارہ بردار بحری جہاز) ہے، جس میں ایٹمی ری ایکٹر نصب ہے اور جو 75 سے زائد فوجی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہیں ابراہم لنکن، جو ایٹمی توانائی سے چلتا ہے، تقریباً 90 فوجی طیارے تعینات کر سکتا ہے۔


ٹرمپ نے ایران کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ اپنے گھروں میں ہی محفوظ رہو۔ اپنا گھر مت چھوڑو۔ باہر بہت خطرہ ہے۔ ہر جگہ بم گریں گے۔ جب ہمارا کام ختم ہو جائے، تو اپنی حکومت پر قبضہ کر لینا، یہ تمہاری ہوگی۔ یہ شاید نسلوں کے لیے تمہارا واحد موقع ہوگا۔ کئی سالوں سے تم نے امریکہ سے مدد مانگی ہے، لیکن تمہیں کبھی نہیں ملی۔ کوئی بھی صدر وہ کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں آج رات کرنے کو تیار ہوں۔ اب تمہارے پاس ایک ایسا صدر ہے جو تمہیں وہ دے رہا ہے جو تم چاہتے ہو۔ تو دیکھتے ہیں تم اب کیا جواب دیتے ہو۔ امریکہ بہت زیادہ طاقت اور خطرناک قوت کے ساتھ تمہارا ساتھ دے رہا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی تیاری کی خبریں ہیں اور حالات تیزی سے بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں اب اس تصادم کے اگلے مرحلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔