
آئی اے این ایس
سیول: جنوبی کوریا کی ایک ضلعی عدالت نے پیر کے روز سابق وزیرِ انصاف پارک سنگ جے کو بغاوت کے جرم میں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں سابق صدر یون سک یول کی جانب سے مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے فوری طور پر حراست میں لینے کا حکم بھی دیا۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پارک سنگ جے کے لیے 20 سال قید کی سزا کی سفارش کی تھی، تاہم سیول سینٹرل ضلعی عدالت نے سزا میں مزید 5 سال کا اضافہ کرتے ہوئے انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا تو وہ شواہد کو ضائع یا متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً تحویل میں لے لیا گیا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق پارک سنگ جے نے 3 دسمبر 2024 کو یون سک یول کی جانب سے مارشل لا کے اعلان کے بعد وزارت کے سینئر حکام کا اجلاس طلب کیا تھا اور بغاوت سے متعلق سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
Published: undefined
عدالت نے دونوں الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارک سنگ جے نے مارشل لا کے نفاذ کی حمایت کے لیے استغاثہ کے اہلکاروں کی تعیناتی کے جائزے، اصلاحی مراکز کی گنجائش کی جانچ اور ان سیاست دانوں اور اہم شخصیات کی ممکنہ حراست کی تیاری جیسے معاملات پر غور کیا تھا، جنہیں مارشل لا کے نفاذ کے دوران گرفتار کیا جانا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے آئین کے تحفظ کے اپنے فرض سے روگردانی کی اور اس سوچ کے تحت بغاوت میں شریک ہوئے کہ یہ اقدام کامیاب ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
پارک سنگ جے اب یون سک یول کی کابینہ کے ان سابق ارکان میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں بغاوت میں کردار ادا کرنے کے الزام میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان میں سابق وزیرِ اعظم ہان ڈک سو اور سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل فروری میں سابق صدر یون سک یول کو بھی مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined