جنوبی کوریا میں بیلٹ پیپر بحران پر احتجاج نویں روز بھی جاری، دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ
جنوبی کوریا میں مقامی انتخابات کے دوران بیلٹ پیپر کی کمی کے خلاف احتجاج نویں دن بھی جاری رہا۔ مظاہرین دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے غلطی تسلیم کر لی ہے

جنوبی کوریا میں مقامی انتخابات کے دوران بیلٹ پیپر کی شدید کمی کے معاملے پر عوامی غم و غصہ کم ہونے کے آثار کے باوجود احتجاجی سلسلہ نویں روز بھی جاری رہا۔ دارالحکومت سیول میں ہفتہ کے روز سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انتخابی عمل میں پیش آنے والی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ دہرایا۔
مقامی میڈیا کے مطابق سیول کے جنوبی علاقے جامسل میں واقع ایس کے اولمپک ہینڈ بال جمنازیم کے اطراف صبح کے وقت تقریباً 700 افراد جمع ہوئے۔ مظاہرین قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور نعرے بازی کے ذریعے انتخابی نتائج پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کر رہے تھے۔ اگرچہ گزشتہ رات اسی مقام پر تقریباً 8 ہزار افراد موجود تھے، تاہم احتجاجی تحریک اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
یہ تنازع 3 جون کو ہونے والے میئر اور گورنر انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب ملک بھر کے متعدد پولنگ مراکز پر بیلٹ پیپر ختم ہو گئے تھے۔ قومی الیکشن کمیشن کے مطابق 26 پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل عارضی طور پر روکنا پڑا، جبکہ کئی ووٹر ووٹ ڈالے بغیر واپس لوٹ گئے کیونکہ وہاں بیلٹ پیپر دستیاب نہیں تھے۔
ابتدائی دنوں میں اس احتجاجی تحریک نے خاصی شدت اختیار کر لی تھی اور گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مظاہرین کی تعداد تقریباً 30 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی، خصوصاً بیس اور تیس برس کی عمر کے افراد۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ احتجاج میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے اور اب زیادہ تر عمر رسیدہ افراد ہی ریلیوں میں شریک نظر آ رہے ہیں۔
قومی الیکشن کمیشن نے معاملے پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ووٹرز کی تعداد کا درست اندازہ نہ لگانے کے باعث مطلوبہ تعداد میں بیلٹ پیپر شائع نہیں کیے جا سکے۔ تاہم کمیشن کا موقف ہے کہ یہ انتظامی ناکامی انتخابات کو کالعدم قرار دینے یا دوبارہ کرانے کے لیے کافی بنیاد نہیں بنتی اور اس سے مجموعی انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوئے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کو مزید انتظامی کوتاہیوں پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد کمپیوٹر نظام میں غلط درج ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد کمیشن کی ساکھ مزید متاثر ہوئی ہے۔ کمیشن پہلے ہی اقربا پروری اور مبینہ جانبدارانہ تقرریوں کے الزامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں تھا۔
صدر لی جے میونگ نے معاملے کی مکمل تحقیقات اور انتخابی نظام میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔ ادھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق الیکشن کمیشن سربراہ روہ تائے ایک کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسی دوران اپوزیشن جماعت پیپلز پاور پارٹی نے حکومت سے فوری مذاکرات اور خصوصی تحقیقاتی وکیل کی تقرری کے مطالبے کو مزید زور دے دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیاسی بحران آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
