
روس کی جانب سے یوکرین پر فضائی حملے
یوکرین پر روسی حملے اور بھی مہلک ہوتے جا رہے ہیں۔ ہفتے کوعلی الصبح روس نے یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بناکر ایک اور بڑا حملہ کردیا جس کے نتیجے میں راجدھانی کیف سمیت ملک کے کئی حصے زور دار دھماکوں کی آوازوں سے لرز اُٹھے۔ اس حملے کے بعد پورے یوکرین میں تقریباً 12 لاکھ املاک بجلی سے محروم ہوگئی ہیں جبکہ درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سیلسیس تک گر گیا ہے۔
Published: undefined
تازہ صورتحال کے حوالے سے یوکرین کے نائب وزیراعظم اولیکسی کولیبا نے بتایا کہ رات گئے تک راجدھانی کیف میں 3,200 سے زائد عمارتوں میں حرارتی نظام ٹھپ ہو چکا ہے۔ صبح تک یہ تعداد تقریباً 6,000 تھی جسے ایمرجنسی مرمت کے ذریعہ کچھ حد تک کم کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 160 سے زیادہ ایمرجنسی ٹیمیں راجدھانی میں حرارتی نظام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔
Published: undefined
وہیں وزیر توانائی ڈینس شمیہل نے بتایا کہ صرف کیف میں 8 لاکھ سے زیادہ گھراب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ دریں اثنا راجدھانی کے شمال میں واقع چرنیہیوعلاقے میں تقریباً 4 لاکھ افراد تاریکی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دشمن‘ کے مسلسل حملوں کی وجہ سے حالات کو مستحکم کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ان حملوں کے اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر صاف نظر آرہے ہیں۔ کئی علاقوں میں سنٹرل ہیٹنگ سسٹم پہلے ہی خراب ہو چکا تھا جس سے اپارٹمنٹ ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ اب نئے حملوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
Published: undefined
یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو نے کہا کہ روس نے راجدھانی کیف کے ساتھ ساتھ ملک کے شمال اور مشرق میں 4 دیگرعلاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تیزی سے تباہ شدہ پاور پلانٹس کی مرمت کر رہی ہے، بجلی درآمدات میں اضافہ کیا جارہا ہے اور متبادل توانائی کے ذرائع کو حاصل کیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بتایا کہ راجدھانی میں ایک شخص ہلاک اور 4 دیگر زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 3 کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ وہیں یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک بچے سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان متحدہ عرب امارات میں مذاکرات جاری ہیں۔ حالانکہ 2 روز تک جاری رہنے والی بات چیت میں کسی معاہدے کے آثار نظر نہیں آئے اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
Published: undefined