
فائل تصویر / آئی اے این ایس
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے دوران امن و قانون کی صورت حال تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ملک بھر میں سیاسی تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی میڈیا نے ڈھاکہ کی انسانی حقوق تنظیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوری کے مہینے میں تشدد کے واقعات میں دسمبر 2025 کے مقابلے میں خاصا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
Published: undefined
انسانی حقوق تنظیم آئین و سالش مرکز کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری میں سیاسی تشدد کے 75 واقعات درج ہوئے، جن میں 616 افراد زخمی اور 11 ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 18 واقعات پیش آئے تھے، جن میں 268 افراد زخمی اور چار ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 22 جنوری کو انتخابی پروگرام کے اعلان اور انتخابی مہم شروع ہونے کے بعد جھڑپوں میں مزید تیزی آئی۔ 21 سے 31 جنوری کے درمیان 49 جھڑپیں ہوئیں، جن میں چار افراد جان سے گئے اور 414 زخمی ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے، کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Published: undefined
تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ سیاسی تشدد کے ماحول میں صحافی بھی محفوظ نہیں رہے۔ دسمبر میں ڈیوٹی کے دوران 11 صحافیوں کو رکاوٹ یا حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ جنوری میں یہ تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی۔ بنگلہ دیش کے ایک بڑے اخبار نے بھی اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
آئین و سالش مرکز نے تمام سیاسی جماعتوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور انتخابی مہم کے دوران امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ اور ان کے آئینی حقوق کو یقینی بنائیں۔
Published: undefined
ادھر مقامی ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کے آغاز سے ہی مختلف حلقوں میں فائرنگ، چاقو زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ بعض مقامات پر انتخابی کیمپ، دفاتر، گاڑیاں اور نگرانی کے آلات کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور سلامتی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined