
فوٹو: آئی اے این ایس
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ شورش زدہ سوڈان میں تقریباً 1.95 کروڑ افراد خوراک کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔ نائب ترجمان فرحان حق نے ڈیلی بریفنگ میں بتایا کہ گریٹر دارفور اور گریٹر کورڈوفن کے 14 علاقوں میں جہاں قحط کا خطرہ برقرار ہے، وہیں جون اور ستمبر کے درمیان آنے والے مشکل موسم (لین سیزن) میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران ضروریات کے مقابلے میں انسانی امداد ابھی بھی ناکافی ہے۔
Published: undefined
حق نے بتایا کہ فروری اور مئی کے درمیان انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں نے ہر ماہ 4.8 ملین افراد تک پہنچنے کا ہدف رکھا تھا لیکن فروری میں ایک اندازے کے مطابق صرف 3.13 ملین افراد کو ہی امداد مل سکی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایف اے او، ڈبلیو ایف پی اور یونیسیف نے فوری طور پر دشمنانہ سرگرمیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے خوراک، ہنگامی خوراک کی پیداوار، غذائیت، صحت، پانی اور صفائی خدمات کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کی بحالی کی کوششوں کے لیے فوری طور پر فنڈز بڑھانے پر بھی زور دیا۔
Published: undefined
اس سے قبل 13 مئی کو اقوام متحدہ کے انسانی امدادی حکام نے اطلاع دی تھی کہ جنگ زدہ جنوب مغربی سوڈان میں امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے، جب کہ جنوبی سوڈان میں قحط سے نجات کے لیے 1.2 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے انسانی امداد کے شراکت دار سوڈان میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ دفتر نے اطلاع دی کہ کورڈوفن کے علاقے میں امدادی تنظیمیں بے گھر لوگوں، پناہ گزینوں اور مقامی کمیونٹیز کو زندگی بچانے والی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے ایک حصے کے طور پر شمالی کورڈوفن ریاست کے شیکان اور اررہاد علاقوں میں تقریباً 85,000 لوگوں تک پانی اور صفائی کی امداد پہنچائی گئی ہے۔
Published: undefined
دریں اثنا، انسانی امدادی کارکنوں نے شیکن میں 2,000 بے گھر خاندانوں میں کمبل، مچھر دانی اور دیگر گھریلو ضروریات تقسیم کیں۔ دفتر نے بتایا کہ جنوبی کورڈوفن ریاست میں تقریباً 88 ہزار لوگوں نے، جن میں جنوبی سوڈانی مہاجرین، بے گھر افراد اور مقامی کمیونٹی شامل ہیں، نے پانی اور صفائی سے متعلق امداد حاصل کی۔ حالانکہ دفتر نے کہا کہ اسے تشویش ہے کہ جاری لڑائی شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined