عالمی خبریں

افغانستان میں طاقتور زلزلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی، 500 افراد جان بحق

ہلال احمر کے ترجمان عرفان اللہ شرافزوئی نے اتوار کو بتایا کہ تازہ ترین معلومات کے مطابق افغانستان میں طاقتور زلزلوں سے 500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس</p></div>

تصویر بشکریہ ایکس

 

کابل: افغانستان مغربی حصے میں آنے والے زلزلوں کے باعث سینکڑوں افراد جان بحق ہو گئے ہیں۔ روئٹرز نے ہلال احمر کے حوالہ سے اطلاع دی کہ زلزلہ کے سبب 500 افراد کی جان چلی گئی ہے۔ ہلال احمر کے ترجمان عرفان اللہ شرافزوئی نے اتوار کو بتایا کہ تازہ ترین معلومات کے مطابق افغانستان میں طاقتور زلزلوں سے 500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

Published: undefined

یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے کہا کہ ہفتہ کو متعدد زلزلے ہرات شہر کے شمال مغرب میں 35 کلومیٹر (20 میل) کے فاصلے پر آئے، جن میں سے ایک کی شدت 6.3 تھی۔

ہرات کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ مختلف ہسپتالوں میں 200 سے زائد افراد کو لایا گیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 510 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے۔‘‘

Published: undefined

ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے ایک مقامی اہلکار نے کہا ’’زلزلوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، کنوکہ کئی افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی جانب سے پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘

امریکی جیولوجیکل سروے کی ایک ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تباہی ممکنہ طور بڑی ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد کے جاں بحق ہون کا خدشہ ہے۔ جیولوجیکل سروے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے نقشے میں خطے میں سات زلزلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Published: undefined

ہرات کے شمال مغرب میں 21.7 میل دور 5.9 شدت کا زلزلہ، زندہ جان سے شمال مشرق میں 20.5 میل دور 6.3 شدت کا زلزلہ اور ایک اور 6.3 شدت کا زلزلہ شامل ہے۔ تباکن زلزلے کی وجہ سے درجنوں دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور سینکڑوں لوگ ملبے تلے دب گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہرات صوبہ ایران کی سرحد سے ملتا ہے، جبکہ زلزلے کے جھٹکے قریبی صوبوں فراہ اور بادغیس اور کچھ قریبی ایرانی قصبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined