
ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی ڈھانچے پر حملے عارضی طور پر روکنے کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں نے مثبت ردعمل دیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو جاری کشیدگی کے درمیان ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے روک دے گا۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ بات چیت کو "بہت اچھی اور تعمیری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جاری مذاکرات کی کامیابی پر منحصر ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اعلان تقریباً تین ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطحی رابطوں کی تصدیق کرتا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ نکل سکتا ہے۔
Published: undefined
اعلان کے فوراً بعد عالمی بازاروں میں تیزی دیکھنے کو ملی۔ امریکی اسٹاک فیوچرز میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا، جس سے پہلے کی گراوٹ کی تلافی ہوئی۔ عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کی قیمت جو 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کم ہو کر 100 ڈالر سے نیچے آ گئی۔ یورپی بازاروں میں بھی ابتدائی گراوٹ کے بعد بہتری دیکھی گئی، جبکہ کرپٹو کرنسی بازار میں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جو عالمی تیل ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ تاہم غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ ایران سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس اعلان کو پسپائی قرار دیا ہے، جبکہ کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے کوئی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات نہیں ہوئے تھے۔
Published: undefined
اس تنازع کا اثر پہلے ہی عالمی توانائی کے نظام پر پڑ چکا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کے ایک بڑے گیس سے مائع بنانے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے، جس کا ایک حصہ کم از کم ایک سال کے لیے بند ہو گیا ہے۔
ادھر امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، جس سے سپلائی چین اور صارفین کی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اگرچہ بازاروں میں وقتی بہتری آئی ہے، لیکن سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔
Published: undefined
ہندوستان کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی فوری راحت کا سبب بنی ہے۔ ایک بڑے درآمد کنندہ ہونے کے باعث ہندوستانی معیشت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کم ہونے اور سرکاری مالی دباؤ میں کمی کی امید ہے۔
تاہم خلیجی خطے کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے، کیونکہ وہاں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانی شہریوں کی آمدنی اور وطن بھیجی جانے والی رقوم پر کسی بھی کشیدگی کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined