آئین کی 130ویں ترمیم: اصلاح یا سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا نیا ہتھیار؟...اجیت راناڈے

آئین کی 130ویں ترمیم کا مقصد سیاست میں جرائم پر قابو پانا بتایا جا رہا ہے مگر گرفتاری کو بنیاد بنانے سے اس کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ڈاکٹر اجیت راناڈے

فروری کے آخر میں دہلی کی ایک عدالت نے شراب پالیسی معاملے میں تمام 23 ملزمین کو بری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس پالیسی کے پیچھے نہ کوئی سازش تھی اور نہ ہی کوئی مجرمانہ ارادہ۔ اس کیس میں شامل ایک ملزم نے بری ہونے سے پہلے 530 دن جیل میں گزارے۔ اس مقدمے میں کارروائی کی رہنمائی کرنے والے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گزشتہ دس برسوں میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف 193 مقدمات درج کیے، مگر صرف دو میں سزا دلوا سکا، یعنی کامیابی کی شرح محض ایک فیصد کے آس پاس رہی۔

اب اس کے ساتھ ایک اور حقیقت کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اپنے خلاف زیرِ سماعت مقدمات کی تفصیل دینے والے ارکانِ پارلیمنٹ کا تناسب 2004 میں 24 فیصد تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 46 فیصد ہو گیا ہے۔ ملک کے موجودہ ارکانِ اسمبلی میں 45 فیصد ایسے ہیں جن پر فوجداری الزامات ہیں، اور ان میں سے 29 فیصد پر قتل، قتل کی کوشش، اغوا اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ سیاست کا یہ بڑھتا ہوا جرائم سے تعلق ایک تلخ حقیقت ہے، جو ہمارے جمہوری نظام کو اندر سے کمزور کر رہا ہے۔

اسی پس منظر میں آئین (130واں ترمیمی) بل 2025 پیش کیا گیا ہے، جو اس وقت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔ اس بل کے مطابق اگر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا کابینہ کے کسی وزیر کو ایسے مقدمے میں، جس میں پانچ سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہو سکتی ہو، مسلسل 30 دن تک گرفتار رکھ لیا جائے تو وہ خود بخود اپنے عہدے سے محروم ہو جائے گا۔ اس تجویز کا مقصد جیل سے حکومت چلانے کے رجحان کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے، مگر اس کا طریقہ کار شدید اعتراضات کو جنم دیتا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ محض پولیس کی ایف آئی آر نہیں ہوتا، نہ ہی کسی مخالف کی شکایت یا کسی فائل میں درج الزام۔ الزامات اس وقت طے کیے جاتے ہیں جب تفتیش مکمل ہو جائے، عدالت جرم کا نوٹس لے، اور ایک جج یہ طے کرے کہ بظاہر مقدمہ بنتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ عدالتی عمل ہوتا ہے۔ عام شہری کو اگر ایسے الزامات کا سامنا ہو تو اسے سرکاری ملازمت تک نہیں مل سکتی، مگر سیاست میں یہی معیار لاگو نہیں ہوتا۔


سیاسی جماعتوں کے رہنما اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے یا سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قتل، عصمت دری، اغوا یا بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کے مقدمات بھی محض سیاسی سازش ہو سکتے ہیں؟

اس بل کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ کسی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے عدالت کی جانب سے الزامات طے ہونے کے بجائے گرفتاری کو بنیاد بناتا ہے۔ گرفتاری ایک انتظامی کارروائی ہوتی ہے، جسے تفتیشی ایجنسیاں بغیر کسی عدالتی فیصلے کے بھی انجام دے سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت ضمانت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس کی دفعہ 45 میں دوہری شرائط رکھی گئی ہیں، جبکہ دفعہ 24 میں ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی ہے۔ اسی طرح غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت بھی ضمانت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے، اور 30 دن تک جیل میں رکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔

یہ صورت حال ایک خطرناک کمزوری کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے، انہیں ضمانت سے محروم رکھ کر، 30 دن کے اندر ان کے عہدے ختم کرا سکتی ہے۔ اس دوران عدالت نے مقدمے کی بنیاد پر کوئی فیصلہ بھی نہ کیا ہو۔ اس بل میں اس ممکنہ غلط استعمال کے خلاف کوئی حفاظتی بندوبست موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس، 244ویں لاء کمیشن نے واضح طور پر سفارش کی تھی کہ نااہلی کا اطلاق تب ہونا چاہیے جب کسی عدالت کی جانب سے الزامات طے کیے جائیں۔

ای ڈی کے اعداد و شمار خود اس خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس کی سزا دلوانے کی شرح ایک فیصد رہی ہے، جبکہ 2019 کے بعد پی ایم ایل اے کے تحت یہ شرح تقریباً چھ فیصد کے آس پاس رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض گرفتاری کو کسی کے جرم کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔

تاہم، اس کے جواب میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ ملک کی نچلی عدالتوں میں سزا کی شرح بہت کم ہے۔ این سی آر بی کے مطابق، پونے کی نچلی عدالتوں میں 2023 میں سزا کی شرح صرف 8.8 فیصد رہی، جبکہ 91 فیصد ملزمین بری ہو گئے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زیرِ سماعت مقدمات کی بنیاد پر عوامی عہدوں سے نااہلی کا قانون بے معنی ہو جائے گا۔

یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہندوستانی عدالتی نظام میں زیرِ سماعت مقدمہ دراصل کس چیز کی علامت ہے؟ کیا یہ واقعی جرم کی نشاندہی کرتا ہے، یا یہ تفتیش اور استغاثہ کے کمزور نظام کی عکاسی ہے؟


اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ہم سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کی کوشش ہی چھوڑ دیں، بلکہ ضروری ہے کہ نظام کی خرابیوں کو دور کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے 2014 اور 2017 میں ہدایت دی تھی کہ موجودہ ارکانِ اسمبلی کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت ہونی چاہیے۔ اسی طرح سی آر پی سی کی دفعہ 321 کے تحت حکومت کو مقدمات واپس لینے کے اختیار پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش کرنے ہوں گے، نہ کہ سیاسی دباؤ کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔

اس بل میں ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ یہ اپنے ہی مقصد پر پورا نہیں اترتا۔ اس میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر کوئی وزیر جیل سے رہا ہو جائے تو اسے دوبارہ عہدہ دیا جا سکتا ہے، چاہے اس کے خلاف مقدمہ ابھی بھی زیرِ سماعت ہو۔ اس طرح 30 دن کی قید محض ایک عارضی رکاوٹ بن کر رہ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ قانون صرف وزراء تک محدود ہے، جبکہ سینکڑوں ایسے ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی موجود ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں، مگر وہ اس کے دائرے میں نہیں آتے۔ یہ بل ایسے امیدواروں کو انتخابات لڑنے سے روکنے کے لیے بھی کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔

گزشتہ 25 برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے کئی سفارشات سامنے آ چکی ہیں، مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔ ووہرا کمیٹی (1993)، لاء کمیشن کی 170ویں اور 244ویں رپورٹ، اور آئینی نظام کا جائزہ لینے والے قومی کمیشن سمیت سپریم کورٹ نے بھی 2018 میں پبلک انٹرسٹ فاؤنڈیشن بنام یونین آف انڈیا کیس میں پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ ایسے امیدواروں کو نااہل قرار دیا جائے جن کے خلاف انتخاب سے کم از کم چھ ماہ قبل سنگین جرائم کے مقدمات درج ہوں اور عدالت الزامات طے کر چکی ہو۔

اس کے ساتھ یہ بھی تجویز دی گئی تھی کہ سنگین جرائم میں سزا پانے والوں پر مستقل پابندی ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لایا جائے، اور نوٹا کو مزید مؤثر بنایا جائے۔


ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مجوزہ مسودے میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ کسی بھی وزیر، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو اس وقت نااہل قرار دیا جانا چاہیے جب عدالت اس کے خلاف ایسے جرائم میں الزامات طے کر دے جن میں کم از کم پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہو۔ یہ ایک عدالتی معیار ہے، جسے بار بار دہرایا گیا ہے۔

کسی بھی جمہوریت کو نہ تو جرائم زدہ سیاست کا یرغمال بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسے قوانین کا، جنہیں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ 130ویں آئینی ترمیم کا موجودہ مسودہ ایک طرف سیاست کے جرائم سے پاک کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے، اور دوسری طرف اس کے ذریعے قانون کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی اس بل کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

(مضمون نگار اجیت راناڈے معروف ماہرِ معاشیات ہیں۔ یہ مضمون دی بلین پریس سے ماخوذ ہے)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔