
علامتی تصویر / اے آئی
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے امریکہ کے ساتھ دوسرے دور کے ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا ’ہاتھ ٹریگر پر‘ ہوگا اور دفاعی فورسز مکمل تیاری کی حالت میں رہیں گی۔ انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ملک کے سامنے دو حکمت عملیاں ہیں، جن میں جنگ اور سفارت کاری شامل ہیں۔
Published: undefined
فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی نہ تو تصدیق کی اور نہ تردید کہ آیا ایران دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی میعاد بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق جنگ بندی بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر اختتام پذیر ہوگی۔
Published: undefined
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے پاس مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو ایران کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے اور وہ جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔
ادھر ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ مرکزی عسکری ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ کسی بھی وعدہ خلافی کا مسلح افواج کی جانب سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی صدر کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
Published: undefined
حالیہ صورتحال میں دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی برقرار ہے کیونکہ ایران کی جانب سے اس میں شرکت کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ جنگ بندی کی میعاد کے خاتمے کا وقت قریب ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined