
آئی اے این ایس
تہران: ایران کی حکومت نے کہا ہے کہ جاری تنازعہ ختم ہونے کے بعد ملک میں انٹرنیٹ خدمات کو معمول کے مطابق بحال کر دیا جائے گا۔ سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کو شہری حق مانتی ہے اور تمام شہریوں کو یکساں رسائی فراہم کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات سازگار ہوتے ہی انٹرنیٹ سروس دوبارہ عام لوگوں کے لیے کھول دی جائے گی۔
Published: undefined
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ حکومت کا نظریہ یہ ہے کہ تمام بنیادی سہولتوں تک عوام کی مساوی رسائی ہونی چاہیے، جن میں انٹرنیٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی سوچ بھی یہی ہے کہ عوام کو بلا امتیاز جدید مواصلاتی سہولتیں فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کے امتیاز یا ناانصافی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
ایرانی حکومت کے مطابق کاروباری اداروں اور عوام کو معیاری انٹرنیٹ فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم موجودہ کشیدہ حالات کے سبب انٹرنیٹ خدمات محدود رکھی گئی ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ تنازع کے خاتمے کے ساتھ ہی حالات بھی معمول پر آ جائیں گے اور عوام دوبارہ عالمی رابطوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران میں انٹرنیٹ خدمات شدید متاثر ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ملک میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بندش نافذ رہی۔ انٹرنیٹ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں عام شہریوں کا عالمی دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع رہا اور 1752 گھنٹوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران میں صرف حکومت سے منظور شدہ ویب سائٹس تک محدود رسائی دی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم، وی پی این خدمات اور غیر ملکی ویب سائٹس پر سخت پابندیاں عائد رہیں۔ اس دوران ایران کا داخلی نیٹ ورک، جسے ’نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک‘ کہا جاتا ہے، ہی فعال رکھا گیا۔
Published: undefined
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 کے آخر سے جاری اس بحران کے دوران ایران کی 99 فیصد سے زیادہ آبادی مکمل یا جزوی انٹرنیٹ بندش سے متاثر رہی۔ مبصرین کے مطابق یہ جدید تاریخ کی طویل ترین انٹرنیٹ بندیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب سے منسوب ایک مبینہ منصوبے پر بھی بحث جاری ہے، جس کے تحت سمندر کے اندر بچھائی گئی عالمی انٹرنیٹ کیبلوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس امکان نے گوگل، میٹا اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined