ممبئی: پانی کی قلت کے پیش نظر بی ایم سی نے سپلائی میں 10 فیصد تخفیف کا اعلان، 15 مئی سے ہوگا نفاذ
ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 15 مئی سے پورے ممبئی میں پانی کی فراہمی میں 10 فیصد تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممبئی پر آبی بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے اور کمزور مانسون کی پیشین گوئی کے پیش نظر حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے، جس کے مطابق ممبئی میں پانی کی فراہمی میں 10 فیصد کی تخفیف کی جائے گی۔ ممبئی والوں کو جمعہ (15 مئی) سے پانی کی سپلائی میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ احتیاطی قدم بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث 7 جھیلوں میں پانی کے مجموعی ذخائر میں تیزی سے ہونے والی کمی کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔
بی ایم سی نے ایک ڈیٹا جاری کر بتایا کہ 11 مئی تک آبی ذخائر میں دستیاب پانی کا ذخیرہ مجموعی طور پر 340399 ملین لیٹر درج کیا گیا تھا، جبکہ ان آبی ذخائر کی سالانکہ کل گنجائش 1447363 ملین لیٹر ہے۔ فی الحال استعمال کے قابل پانی کا صرف 23.52 فیصد حصہ ہی دستیاب ہے، جس کے باعث مستقبل کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی پریشانی نہ ہو۔
ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 15 مئی سے پورے ممبئی میں پانی کی فراہمی میں 10 فیصد تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ دستیاب پانی کو زیادہ سے زیادہ وقت تک چلایا جا سکے اور لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بی ایم سی افسران نے بتایا کہ انہوں نے رواں سال 31 اگست تک پانی کا ذخیرہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، کیونکہ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ’ال نینو‘ کے اثرات کے باعث کمزور مانسون کی پیش گوئی کی ہے۔ اسی لیے بی ایم سی نے پانی کی فراہمی میں 10 فیصد تخفیف نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ افسران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ پانی استعمال کریں اور اسے کم سے کم ضائع کریں۔
ممبئی اپنی روزمرہ کی پانی کی ضروریات کے لیے 7 جھیلوں اپر ویترنا، مڈل ویترنا، مودک ساگر، تانسا، بھاتسا، وہار اور تلسی پر منحصر ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے مطابق، ممبئی کو بھاتسا ڈیم کے محفوظ ذخائر سے اضافی 147092 ملین لیٹر اور اپر ویتارنا ڈیم کے اسٹوریج سے 90000 ملین لیٹر اضافی پانی ملے گا، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بخارات بن کر اڑنے والے پانی کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے آبی ذخیرہ 10 فیصد سے نیچے گرنے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، بی ایم سی نے احتیاط کے طور پر پانی میں 10 فیصد تخفیف نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
پانی کی یہ پابندی ممبئی کی حدود سے باہر بھی نافذ ہوگی۔ 15 مئی سے پانی کی فراہمی میں 10 فیصد تخفیف کا اطلاق ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ٹھانے، بھیونڈی-نظام پور میونسپل کارپوریشن اور دیگر دیہاتوں کو دی جانے والی سپلائی پر بھی ہوگا۔ یہ انتظام اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اچھی بارش نہیں ہو جاتی اور آبی ذخائر میں استعمال کے قابل پانی دوبارہ کافی حد تک جمع نہیں ہو جاتا۔
بی ایم سی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی برباد نہ کریں۔ بی ایم سی کے مطابق لوگوں کو پانی بچانے کی عادت اپنانی چاہیے، جیسے نہانے کے لیے بالٹی کا استعمال کرنا، برش کرتے وقت نل کو مسلسل کھلا نہ چھوڑنا، گھریلو کاموں کے لیے پانی کو برتنوں میں جمع کر کے استعمال کرنا، گاڑیوں کو گیلے کپڑے سے صاف کرنا اور ایسے نوزل کا استعمال کرنا جو نل سے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہوں۔ بی ایم سی نے مزید کہا کہ تمام گھروں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانی کی پائپ لائنوں اور واٹر چینلز کی جانچ کی جانی چاہیے۔ اگر کہیں سے لیکیج پایا جائے تو اسے فوری طور پر درست کرایا جانا چاہیے، اس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوگی بلکہ پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے میں بھی مدد ملے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
