فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے درمیان خلیجی خطے کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ جمعہ کی صبح سویرے ایران کے ساحلی صوبے بوشہر اور آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے صوبہ بوشہر کے علاقے جام میں امریکی فوجی طیارے کو مار گرایا۔ تاہم امریکہ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
Published: undefined
ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق جمعہ کی علی الصبح صوبہ بوشہر کا آسمان اچانک میزائلوں کے گرنے اور دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے جام کاؤنٹی کے گورنر مسعود تنگستانی کے حوالے سے بتایا کہ "آج رات، فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے ایک لڑاکا طیارے کو کامیابی سے مار گرایا"۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی طیارہ تھا۔ تاہم امریکی حکام نے ایران کے اس دعوے کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی مسلح افواج نے ملک کے جنوبی علاقوں سے متعدد میزائل داغے ہیں جن کے صحیح اہداف کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ادھر تسنیم ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے سمندر میں شدید گولہ باری کی گئی جس سے ساحلی علاقوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ یہ فوجی کارروائی ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے ہرمز کے قریب چار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے چند گھنٹے بعد ہوئی ہے، جن میں سے بعض کا تعلق امریکہ سے بتایا جاتا ہے۔
Published: undefined
حیرت انگیز طور پر یہ تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان 60 دن کی عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ’امن معاہدے‘ کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ جہاں سفارتی میز پر امن کا لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے، وہیں دونوں ممالک کے درمیان صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined