
آئی اے این ایس
اقوامِ متحدہ: ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر ابو بکر ظاہر عثمان کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں امریکہ پر ایران میں تشدد کو ہوا دینے اور طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کے بیانات نہ صرف ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
Published: undefined
ایران نے اپنے خط میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات براہِ راست ایران کے اندر احتجاج کو بھڑکانے کی کوشش ہیں۔ خط میں خاص طور پر اس پوسٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے خود کو ’ایرانی محبِ وطنوں‘ سے مخاطب کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے، اداروں پر قبضہ کرنے اور مبینہ تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کی اپیل کی۔ ایران کا موقف ہے کہ اس طرح کے بیانات بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی حکام نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے تشدد پر اکسانے اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی کھلے لفظوں میں مذمت کرے اور ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
Published: undefined
ایران نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بیرونی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ملک میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری براہِ راست امریکہ پر عائد ہوگی۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام مجوزہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ ڈیٹرائٹ اکنامک کلب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران میں مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد کے باعث کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک مظاہرین کے خلاف ہلاکتوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، امریکہ کسی بھی قسم کے سفارتی رابطے آگے نہیں بڑھائے گا۔
Published: undefined
یہ بیان اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی لین دین پر 25 فیصد اضافی محصول عائد کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار متضاد ہیں، تاہم ایک جان کا ضیاع بھی ناقابلِ قبول ہے اور ذمہ دار عناصر کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کی ترجیح اب بھی سفارت کاری ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر تمام اختیارات بھی زیرِ غور رہیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined