
آئی اے این ایس
دوحہ: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر اور پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے ایک دوسرے سے براہِ راست ملاقات نہیں کر رہے، بلکہ ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات اور تجاویز کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق مذاکرات بند کمرے میں ہو رہے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد 17 جون کو اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔ بات چیت میں ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
منگل کو قطر نے تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ چکے ہیں، تاہم وہ ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے۔
Published: undefined
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد ایرانی حکام کے بجائے ثالث ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔
ماجد الانصاری نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے تقریباً چھ ارب امریکی ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے تاحال تہران کے حوالے نہیں کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں امریکہ اور ایران کے مؤقف میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست بات چیت طے نہیں پائی۔
بعد ازاں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جب تک مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی شرائط پوری نہیں ہوتیں، ایران امریکہ کے ساتھ کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات نہیں کرے گا۔
Published: undefined
سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے حالیہ سوئٹزرلینڈ کے دورے کا مقصد مفاہمتی یادداشت میں شامل ابتدائی نکات پر پیش رفت کو یقینی بنانا تھا۔ ان کے مطابق ان نکات میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، لبنان میں امن کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایرانی خام تیل کی برآمد کے لیے امریکی چھوٹ کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ان ابتدائی شرائط کی تکمیل کے بعد ہی مفاہمتی یادداشت کی دیگر شقوں پر عملی پیش رفت ممکن ہوگی۔ ان کے مطابق ایران، امریکہ اور لبنان ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام پر بھی متفق ہو چکے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی پر عمل درآمد، لبنان میں مکمل امن کی بحالی اور اس کی خودمختاری کا تحفظ ہوگا۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، تاہم جہاں ضرورت محسوس ہوگی وہاں اپنے مفادات کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined