عالمی خبریں

امریکہ میں ایک اور شہری کے قتل پر پھر وبال، امیگریشن ایجنٹوں نے مار دی گولی

اس سلسلے میں وائرل ہورہے ایک ویڈیو میں پریٹی برف سے ڈھکے فٹ پاتھ پرخاتون احتجاجی کو کیمیائی اسپرے سے بچانے کی کوشش کرتے دکائی دے رہے ہیں، اسی وقت ایک ایجنٹ انہیں برفیلی سڑک پر کھینچ لیتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی ریاست منیاپولس میں امیگریشن ایجنٹوں کے ہاتھوں 37 سالہ ایلکس پریٹی کو گولی مارے جانے کے واقعے کے بعد ایک بار پھر دھرنے اور مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل 7 جنوری کو امریکی شہری رینی گڈ کو گولی مارکرہلاک کردیا گیا تھا۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے بتایا کہ پریٹی نے پستول لے کر ایجنٹوں کے پاس جانے کی کوشش کی اور پھرغیرمسلح کرنے پرتشدد کا سہارا لیا۔ اس سلسلے میں وائرل ہورہے ایک ویڈیو میں پریٹی برف سے ڈھکے فٹ پاتھ پرخاتون احتجاجی کو کیمیائی اسپرے سے بچانے کی کوشش کرتے دکائی دے رہے ہیں، اسی وقت ایک ایجنٹ انہیں برفیلی سڑک پر کھینچ لیتا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 37 سالہ ایلکس جیفری پریٹی امریکہ کے سابق فوجیوں کے امور سے متعلق محکمہ میں کام کرتے تھے اور 7 جنوری کو امیگریشن افسر کے ہاتھوں رینی گڈ کے قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں میں شامل ہوئے تھے۔ پریٹی امریکی شہری تھے جو الینوائے میں پیدا ہوئے تھے۔ عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اوران کے اہل خانہ نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ ان کا رابطہ ٹریفک کے چند جرمانے تک محدود تھا۔

Published: undefined

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک فون کال کے دوران کولوراڈو میں رہنے والے ان کے والدین نے انہیں احتجاج میں حصہ لیتے وقت محفوظ رہنے کے لیے کہا تھا۔ ڈی ایچ ایس نے اس واقعے کو حملہ قرار دیا اور کہا کہ سرحدی گشتی دستہ کے ایک افسر نے اپنے دفاع میں اس وقت کارروائی کی جب ایک شخص مبینہ طور پر بندوق لے کر قریب آیا اور افسران کے ذریعہ بندوق چھیننے کی کوشش کرنے پراس نے مزاحمت کی۔

Published: undefined

حالانکہ راہگیروں کی طرف سے لی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پریٹی بندوق کے بجائے موبائل فون پکڑے ہوئے ہے۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ وہ دوسرے مظاہرین کی مدد کرنے کی کوشش کر تے دکھائی دے رہے ہیں جنہیں افسران نے زمین پر پٹخ دیا تھا۔ نیوز ایجنسی’رائٹرز‘ نے اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined