
تصویر بشکریہ ایکس
یوکرین کے سابق وزیرِ توانائی جرمن گالوشچینکو کو ملک چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران سرحدی مقام پر حراست میں لے لیا گیا۔ یوکرین کے قومی انسدادِ بدعنوانی بیورو نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اتوار کے روز ایک اعلیٰ شخصیت کو ریاستی سرحد عبور کرتے وقت روکا، تاہم ابتدائی بیان میں نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں مقامی ذرائع ابلاغ نے گرفتار شخص کی شناخت جرمن گالوشچینکو کے طور پر کی۔
Published: undefined
قومی انسدادِ بدعنوانی بیورو کے مطابق معاملے کی ابتدائی جانچ جاری ہے اور کارروائی قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ جلد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی جنگی حالات اور توانائی بحران سے دوچار ہے۔
Published: undefined
جرمن گالوشچینکو کئی برسوں تک وزیرِ توانائی کے عہدے پر فائز رہے۔ بدعنوانی کے الزامات عائد ہونے کے بعد انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ ان متعدد وزرا میں شامل تھے جنہوں نے 2025 کے دوران اپنے عہدے چھوڑے۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں منی لانڈرنگ اسکیم بے نقاب ہوئی، جس میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور نجی بچولیوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
خصوصی انسدادِ بدعنوانی استغاثہ دفتر کے مطابق تحقیقات سو ملین ڈالر مالیت کی ایک متنازع ڈیل سے متعلق ہیں۔ الزام ہے کہ سرکاری جوہری توانائی آپریٹر سے منسلک معاہدوں میں قیمتیں بڑھا کر پیش کی گئیں اور غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اسکیم کا خاکہ کاروباری شخصیت تیمور مینڈیچ نے تیار کیا۔
Published: undefined
تحقیقاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ جرمن گالوشچینکو نے تیمور مینڈیچ کو توانائی کے شعبے میں غیر قانونی رقوم کے لین دین میں سہولت فراہم کی۔ یہ بھی الزام ہے کہ ٹھیکیداروں کو دس سے 15 فیصد تک رشوت دینے پر مجبور کیا گیا اور حاصل شدہ رقوم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے منی لانڈرنگ کا سہارا لیا گیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین روسی حملوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے اور ملک کا توانائی ڈھانچہ بار بار نشانہ بن رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر وولودیمیر زیلینسکی پر اس کیس میں کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، تاہم دیگر اہم شخصیات کے نام بھی تحقیقات میں سامنے آئے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined