عالمی خبریں

ایلون مسک کا یو ٹرن: ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بیانات پر اظہارِ افسوس

ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ تنقیدی بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کچھ تبصرے حد سے تجاوز کر گئے تھے، جو انہیں اب پچھتاوا ہے

<div class="paragraphs"><p>ایلون مسک / آئی اے این ایس</p></div>

ایلون مسک / آئی اے این ایس

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف حالیہ دنوں میں دیے گئے بیانات پر ٹیسلا اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ انہیں گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے بارے میں اپنی چند پوسٹس پر پچھتاوا ہے اور یہ سب کچھ حد سے زیادہ ہو گیا تھا۔

Published: undefined

مسک اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ مسک نے ٹرمپ کے اخراجات، ٹیکس کٹوتی بل اور دیگر پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔ ایک موقع پر انہوں نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی حمایت میں بھی ایک پوسٹ کی، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے سابق مالیاتی مجرم جیفری ایپ اسٹین کے ساتھ ٹرمپ کے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا، جسے صدر ٹرمپ نے پرانا اور بے بنیاد الزام قرار دیا۔ یہ پوسٹ بھی بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی۔

Published: undefined

صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ ایلون مسک نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’میرے بغیر ٹرمپ انتخابات ہار جاتے۔‘ اس بیان پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا بلکہ یہ دھمکی بھی دی کہ وہ مسک کی کمپنیوں کو دی گئی سبسڈی اور سرکاری معاہدے منسوخ کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ایلون اور میرے درمیان تعلقات بہت اچھے تھے، مگر اب مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ بھی ایسے رہیں گے یا نہیں۔ میں ایلون مسک سے بہت مایوس ہوں۔‘‘

Published: undefined

یہ بھی واضح رہے کہ ایلون مسک نہ صرف صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں شامل رہے، بلکہ وہ ان کی حکومت میں ’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی‘ کے سربراہ بھی بنائے گئے تھے اور کیبنٹ میٹنگز میں شرکت کرتے رہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ بھی دیا ہے جس کا نام ’دی امریکہ پارٹی‘ ہو سکتا ہے۔

ایلون مسک کا حالیہ بیان اس پوری تلخ بحث کا اختتام سمجھا جا رہا ہے، جس میں دونوں شخصیات کے درمیان لفظی جنگ نے خاصی شدت اختیار کر لی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined