
مصر میں ہفتے کے دن ایسے پچھہتر مجسموں کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو لکڑی اور تانبے کے بنے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ شیر کے حنوط شدہ بچوں اور حنوط کی گئی بلیوں کو بھی عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔
Published: undefined
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق دریافت ہونے والے یہ جانور تقریباً چار ہزار چار سو سال پرانے ہیں اور یہ قدیم مصری شہر سقارہ کی باقیات کے قریب دریافت ہوئے تھے۔ جن دیگر جانوروں کی باقیات ملی ہیں، ان میں مگرمچھ، سانپ اور کئی پرندے بھی شامل ہیں۔ مصری حکام نے جانوروں کی اس حالیہ دریافت کو 'اپنی ذات کے اندر ہی ایک میوزیم‘ قرار دیا ہے۔
Published: undefined
گزشتہ برس مصری حکام نے اعلان کیا تھا کہ فرعونوں کے پانچویں حکمران خاندان کے اس مقبرے کو، جہاں سے یہ جانور ملے ہیں، جلد ہی سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس قدیم علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ کو مجموعی طور پر سات نئے مقبرے ملے تھے اور ان میں بلیوں کی درجنوں حنوط شدہ لاشیں تھیں۔ لکڑی کی بنی تقریبا ایک سو بلیاں بھی وہاں موجود ہیں جبکہ بلیوں کی دیوی باستت کے قریب بھی ایک کانسی کی بلی رکھی ہوئی تھی۔
Published: undefined
اسی طرح ماہرین کو ایک بڑی تعداد میں ایسے بھونرے بھی ملے ہیں، جنہیں حنوط کیا گیا تھا۔ مصر میں نوادرات کی سپریم کونسل کے رکن مصطفیٰ وزیر کا کہنا تھا، ''یہ بھونرے واقعی نایاب چیز ہیں۔ جب ہم نے تابوت کھولے تو ان میں بھی بھنورے نقش شدہ تھے۔ میں نے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں سنا۔‘‘
Published: undefined
قدیم مصری لاشوں کو بعد از مرگ زندگی کے لیے حنوط کر دیا کرتے تھے جبکہ ایسی حنوط شدہ لاشوں کے پاس پالتو اور جنگلی جانور بھی رکھے جاتے تھے۔ یہ یا تو ان کی حفاظت یا پھر تنہائی میں ساتھ دینے کی غرض سے رکھے جاتے تھے۔
Published: undefined
قدیم مصری مذہب میں بلی اور بھونروں کو انتہائی طاقتور مذہبی علامات سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت کے امیر ترین مصریوں کے مقبرے بھی انتہائی شاندار بنائے جاتے تھے۔ ان میں سونا اور قیمتی اشیاء کثرت سے پائی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسی قبروں کو چور لوٹ لیتے ہیں۔ مصر میں اب بھی بہت سے نئے مقبرے دیافت ہوتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کو پہلے ہی چور لوٹ چکے ہوتے ہیں جبکہ یہ مقبرے بالکل اپنی اصل حالت میں ملے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined