
ریڈیو فری یوروپ / ریڈیو لبرٹی اور ایران لیبر نیوز ایجنسی نے اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کے ترجمان مجتبیٰ خالدی نے بتایا کہ حال ہی میں پورے ایران میں 302 لوگوں کو زہریلی شراب پینے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
خالدی نے بتایا کی ہرمزان ، شمالی خراسان، البورج، كوه گليوه اور بوئر احمد ریاست میں اموات ہوئی ہیں۔
قابل غور ہے کہ ایران میں 1979 سے شراب پر پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر نقد جرمانہ اور سخت سزا کا قانون ہے۔ اس کے باوجود بہت سے ایرانی غیر ملکی اور دیسی شراب پیتے ہیں جو غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
بندر عباس کے پولس سربراہ اسماعیل مشائخ نے بتایا کہ ایک بیاہتاجوڑے کو زہریلی شراب بنانے کے شک میں گرفتار کیا گیا ہے اور مشکوک ڈسٹری بیوٹر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں تہران کے مغرب میں واقع كاراز میں زہریلی شراب پینے سے ایک خاتون سمیت چار افراد کی موت ہو گئی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔