امریکی سائنسداں کو چین نے یرغمال بنایا، جوہری تجربات چھپانے کی ٹیکنالوجی میں لے گا مدد

امریکی سائنسداں کو یرغمال بنائے جانے کے الزام پر چین کی وزارت خارجہ کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ وزارت کے ترجمان نے کہا کہ ’’چین میں قانون کی پاسداری کی جاتی ہے اور غلط حراست جیسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘

امریکہ اور چین، تصویر آئی اے این ایس
i

امریکہ کے ایک زلزلہ سائنسداں کو چین نے تقریباً 2 برسوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ سائنسداں کا نام یولن چین ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ چین میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ چین ان پر جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلا رہا ہے۔ یولن چین کی اہلیہ یوفانگ رونگ خود بھی ایک زلزلے کی سائنس داں ہیں۔ یوفانگ رونگ نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیجنگ سفر کے دوران شی جنپنگ کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور شی جنپنگ نے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ لیکن تب سے اب تک چین کی جانب سے اس پر اپڈیٹ نہیں آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ چین نے ان کے شوہر کو پہلے سے ہی جاسوسی معاملے میں ملزم ٹھہرانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے لیے انہیں عمر قید یا موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے منگل کے روز چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’چین میں قانون کی پاسداری کی جاتی ہے اور غلط حراست جیسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ امریکہ کے سابق سیکورٹی آفیسر ایرک لیبسن کا کہنا ہے کہ ’’چین نے یولن چین کی مہارت کا استعمال زمین کے نیچے کیے جانے والے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کو چھپانے کی صلاحیت کو اور بہتر بنانے کے لیے کرنا چاہتا ہے۔‘‘ یولن چین نے شمالی کوریا کے تجرباتی دھماکوں سے پیدا ہونے والی زلزلہ کی لہروں پر تحقیق کی اور محکمہ خارجہ اور فضائیہ کی ریسرچ لیبارٹری سے فنڈنگ ​​حاصل کی۔


امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ ’’یولن چین کی رہائی امریکہ کی ترجیحات کا حصہ ہے۔ یولن چین 2011 میں امریکی شہری بنے تھے اور بوسٹن میساچوسٹس میں رہتے ہیں۔‘‘ یرغمالیوں کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ کم از کم 12 امریکیوں کو چین نے اسی طرح سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ رولن چین کو 5 نومبر 2024 کو بیجنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 2 یونیورسٹیوں میں اپنی تحقیق پر لیکچر دینے کے بعد بوسٹن میں واقع اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ یکم مئی 2025 کو ان پر جاسوسی کا الزام لگا، لیکن ابھی تک مقدمہ نہیں چلا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔