مدھیہ پردیش: مویشی پروری کے وزیر لکھن پٹیل سے وزیر اعلیٰ نے چھین لیا محکمہ، قیاس آرائیاں شروع

لکھن پٹیل کا شمار مدھیہ پردیش بی جے پی کے سینئر لیڈران میں ہوتا ہے۔ ان کے پاس مویشی پروری کے ساتھ ساتھ محکمہ آنند بھی تھا۔ اب وہ صرف محکمہ آنند کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ موہن یادو / تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے وزیر برائے مویشی پروری لکھن پٹیل سے ان کا محکمہ چھین لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اچانک یہ فیصلہ لیا، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ سامنے آئی جانکاری کے مطابق وزیر اعلیٰ اب خود محکمہ مویشی پروری کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ لکھن پٹیل کے پاس محکمہ آنند بھی تھا، اور اس کی ذمہ داری وہ سنبھالتے رہیں گے۔ گزٹ نوٹیفکیشن میں بھی یہ جانکاری دی گئی ہے کہ لکھن پٹیل کے پاس اب صرف محکمہ آنند رہے گا۔ حکومت کی جانب سے اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ لکھن سے محکمہ مویشی پروری کیوں چھین لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اور انتظامی حلقوں میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔


واضح رہے کہ لکھن پٹیل کا شمار مدھیہ پردیش بی جے پی کے سینئر لیڈران میں ہوتا ہے۔ 2013 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے انھیں پتھریا اسمبلی حلقہ سے انتخابی میدان میں کھڑے ہونے کا موقع دیا تھا۔ ان کا مقابلہ کانگریس امیدوار کنور پشپیندر سنگھ ہزاری سے ہوا اور وہ 7315 ووٹوں کے معمولی فرق سے فتحیاب ہوئے۔ انھیں تقریباً 60 ہزار ووٹ ملے تھے، جبکہ ہزاری کو 52 ہزار 768 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

2018 میں ہوئے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب میں بھی بی جے پی نے لکھن پٹیل کو امیدوار بنایا تھا، لیکن وہ بہوجن سماج پارٹی امیدوار رام بائی گووند سنگھ سے 2205 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ لکھن پٹیل کو 37 ہزار 62 ووٹ ملے، جبکہ لکھن کو 39 ہزار 267 ووٹ حاصل ہوئے۔ بعد ازاں 2023 کے اسمبلی انتخاب میں لکھن پٹیل نے ایک بار پھر بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور جیت حاصل کی۔ انھوں نے کانگریس امیدوار راؤ برجیندر سنگھ کو 18 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا۔ پٹیل کو 82 ہزار 603 ووٹ ملے، جبکہ راؤ برجیندر کو 64 ہزار 444 ووٹ حاصل ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔