عالمی خبریں

’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار نہیں چلے گا‘، ماسکو میں بین الاقوامی کانفرنس سے اجیت ڈووال کا خطاب

اجیت ڈووال نے کہا کہ ان سمندری راستوں سے تجارت کو بلا تعطل جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے ہیں، تیل اور دیگر ضروری سامان ایشیا اور دنیا تک پہنچاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اجیت ڈووال (فائل فوٹو)</p></div>

اجیت ڈووال (فائل فوٹو)

 

ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال روس کی راجدھانی ماسکو پہنچے۔ وہاں انہوں نے ایک بڑی بین الاقوامی سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کی اور دنیا کو ہندوستان کا واضح پیغام دیا۔ ڈووال نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار نہیں چلے گا۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ممالک کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں۔ ماسکو میں منعقد بین الاقوامی سلامتی کانفرنس جس کا عنوان ’’پہلا بین الاقوامی سیکورٹی فورم‘‘ اور ’’اعلیٰ سیکورٹی حکام کی 14ویں میٹنگ‘‘ تھا، کی صدارت روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو نے کی۔ کانفرنس میں دنیا کے کئی ممالک کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر این ایس اے اجیت ڈووال نے ہندوستان کی نمائندگی کی۔

Published: undefined

کانفرنس کا اہم موضوع تھا کہ دنیا جس طرف بڑھ رہی ہے، یعنی جہاں امریکہ کی جگہ کئی ملک مل کر دنیا کی طاقت بن رہے ہیں، اس بدلتی ہوئی دنیا میں بین الاقوامی سلامتی کو کون کون سے خطرات ہیں۔ ڈووال نے کانفرنس میں 3 اہم نکات پیش کئے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں دوہرا معیار نہیں چلے گا۔ ڈووال نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو طرح کی پالیسی نہیں ہوسکتی۔ جو ملک ذمہ دار ہیں، انہیں اپنا موقف طے کرنا ہوگا۔ وہ یا تو دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے ساتھ ہیں یا پھر مشترکہ طور پر دہشت گردی کو کچلیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا بار بار الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ڈووال نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن پیغام واضح تھا۔

Published: undefined

دوسری بیت، دنیا کے پرانے اداروں میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔ ڈووال نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 میں قائم ہونے والے بین الاقوامی ادارے جیسے کہ اقوام متحدہ اور اس سے منسلک ادارے اب پرانے ہو چکے ہیں۔ آج کی دنیا کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بڑی تبدیلیاں ضروری ہیں اور ان تبدیلیوں کو ’گلوبل ساؤتھ‘ یعنی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو زیادہ جگہ اور آواز ملنی چاہیے۔

Published: undefined

تیسری بات، سمندری راستے کھلے رہنے چاہئیں۔ ڈووال نے خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سمندری راستوں سے تجارت کو بلا تعطل جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے ہیں، تیل اور دیگر ضروری سامان ایشیا اور دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ ہرمز، خاص طور پر مغربی ایشیا میں تنازعات کی وجہ سے گزشتہ 3 ماہ سے عملی طور پر بند ہے، جس سے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined