عالمی خبریں

کورونا ہوا خطرناک! برطانیہ میں موجودہ 87 فیصد کووڈ مریض پہلے ہی لگا چکے تھے ٹیکہ

کنگز کالج لندن کے سینئر وائرس ٹریکنگ اسپیشلسٹ پروفیسر ٹم اسپیکٹر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں وبا کی تیسری لہر عروج پر ہے، یہاں مجموعی طور پر 87.2 فیصد وہ لوگ کووڈ پازیٹو ہیں جنھیں ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس 

عالمی ادارۂ صحت اور کووڈ-19 متاثرہ ممالک کے سربراہان لگاتار لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ کورونا ویکسین لگوائیں تاکہ اس عالمی وبا کو قابو میں کیا جا سکے۔ لیکن تیز رفتار ٹیکہ کاری مہم کے دوران برطانیہ سے ایک خوفناک خبر سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق برطانیہ میں ایک بار پھر کورونا انفیکشن کے معاملے بڑھنے لگے ہیں اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں ویکسین لگوا چکے بالغ افراد کے بھی کورونا متاثر ہونے کی جانکاریاں موصول ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں برطانیہ کے کنگز کالج لندن کے سینئر وائرس ٹریکنگ اسپیشلسٹ پروفیسر ٹم اسپیکٹر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں وبا کی تیسری لہر عروج پر ہے۔ یہاں مجموعی طور پر 87.2 فیصد وہ لوگ کووڈ پازیٹو ہیں جنھیں ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔

Published: undefined

خبروں کے مطابق گزشتہ 6 جولائی کو برطانیہ میں 12905 ایسے لوگوں میں کووڈ-19 کی تصدیق ہوئی جنھیں ویکسین لگ چکی تھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ 6 جولائی کو کورونا پازیٹو ملے معاملوں میں سے 50 فیصد معاملے ٹیکہ لگوا چکے لوگوں میں ملے۔ پروفیسر اسپیکٹر کے اندازے کے مطابق آنے والے وقت میں یہ گراف مزید بڑھ سکتا ہے۔ انھوں نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اب بھی وبا کو زیادہ اثرانداز ہونے سے روکنے کے لیے سنبھلنے کا وقت ہے۔

Published: undefined

اس درمیان ساؤتھ ٹائنیسائیڈ کونسل کے پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر پروفیسر ٹام ہال کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں تیسری لہر میں کورونا کا ٹیکہ لگوا چکے لوگوں میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے، اور یہ معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں برطانیہ میں آنے والے سات دن کافی اہم ہیں۔ لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ کورونا ضابطوں پر عمل کریں تاکہ انفیکشن کو قابو میں لایا جا سکے۔ ضابطوں کی ذرا بھی خلاف ورزی کرنے سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined