عالمی خبریں

ہیضہ کا عالمی بحران: ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا، صاف پانی اور فوری اقدام ہی واحد حل

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ 31 ممالک میں ہیضہ کے 4 لاکھ سے زائد کیس اور 4700 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ تنظیم نے صاف پانی، بہتر صفائی، نگرانی اور ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ہیضہ کا عالمی بحران</p></div>

ہیضہ کا عالمی بحران

 

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہیضہ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیماری دنیا بھر میں ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں برس یکم جنوری سے 17 اگست 2025 کے درمیان 31 ممالک میں ہیضہ کے 4 لاکھ 9 ہزار سے زیادہ کیس درج ہوئے جبکہ 4 ہزار 738 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے چھ ممالک میں شرح اموات ایک فیصد سے بھی زیادہ رہی۔

Published: undefined

اعداد و شمار کے مطابق مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جبکہ افریقی خطے میں اموات کی شرح سب سے زیادہ رہی۔ ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ یہ صورتحال محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ غربت، تنازعات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات جیسے عوامل سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر دیہی اور سیلاب سے متاثرہ علاقے، جہاں بنیادی ڈھانچہ کمزور اور صحت سہولیات کی رسائی محدود ہے، اس وبا کے پھیلاؤ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ مرض نہ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک بلکہ ایک ہی ملک کے اندر بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈبلیو ایچ او نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنائیں، مریضوں کے علاج و معالجے کے طریقوں کو بہتر کریں، پانی اور صفائی سے متعلق اقدامات بڑھائیں، ویکسینیشن مہم کو تیز کریں اور سرحد پار تعاون کو مضبوط بنائیں۔

Published: undefined

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہیضہ ایک خطرناک بیماری ہے جو "وائبریو کولیرا" نامی بیکٹیریا سے پھیلتی ہے، جو آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ بیماری غربت اور عدم مساوات کی بھی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ اس بحران سے نمٹنے کا واحد پائیدار حل صاف اور محفوظ پانی، بہتر صفائی اور موثر سینیٹیشن کی فراہمی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہیضہ سے متاثرہ زیادہ تر افراد کو ہلکا یا درمیانی درجے کا اسہال ہوتا ہے جس کا علاج زبانی محلول (او آر ایس) سے ممکن ہے۔ تاہم بیماری تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے، اس لیے فوری علاج نہایت ضروری ہے۔ شدید نوعیت کے مریضوں کے لیے نسوں کے ذریعے محلول، او آر ایس اور اینٹی بایوٹک ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔

Published: undefined

یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ ممالک میں ہیضہ کا پھیلاؤ ہر سال ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں کئی سال بعد کیس سامنے آتے ہیں۔ مگر گزشتہ برسوں میں کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف 2023 میں 45 ممالک سے ڈبلیو ایچ او کو 5 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیس اور 4 ہزار سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ ہیضہ سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور اگر عالمی سطح پر بروقت اور مربوط حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ وبا مزید جانیں لے سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined