
علامتی تصویر
امریکی خلائی ایجنسی’ ناسا نے’ آرٹیمس 2‘ مشن کا آغاز کردیا ہے۔ اس مشن میں 4 رکنی ٹیم 10 دن کے دوران چاند کے گرد چکر لگاکر واپس آئے گی۔ اس ٹیم کے ساتھ 189 قسم کے کھانے کا سامان بھی گیا ہے جس میں 58 ٹارٹیلس، 43 کپ کافی اور سب سے اہم بات 5 مختلف ہاٹ ساس بھی شامل ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنے مہنگے اور اہم مشن پر ہاٹ ساس کیوں بھیجا گیا ہے؟ لیکن یہ کوئی مذاق یا ذائقہ کے شوق کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ناسا کا ایک سنگین مسئلے کا عارضی حل ہے جسے 60 سال سے بھی زیادہ عرصے سے مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکا ہے۔
Published: undefined
زمین سے نکلنے پر جسم کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اب کشش ثقل سے پاک ماحول میں ہے۔ لانچ کے 6 سے 10 گھنٹے کے اندر تمام جسمانی رطوبتیں خون، لمف اور انٹر سیلولر سیال اوپر کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، زمین پر کشش ثقل انہیں نیچے رکھتی ہے لیکن خلا میں یہ کھنچاؤ ختم ہو جاتا ہے۔
Published: undefined
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چہرے پر سوج آجاتی ہے، سینوس میں پانی بھرجاتا ہے اور ناک بند ہو جاتی ہے۔ اسے ’خلائی سردی‘ کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 75 فیصد خلابازوں کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وائرس نہیں بلکہ کشش ثقل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ آرٹیمس 2 کے عملے کو بھی لانچ کے چند گھنٹوں بعد اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اور یہ پورے مشن میں برقرار رہے گا، جب تک کہ وہ زمین پر واپس نہ آجائیں۔
Published: undefined
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ذائقہ زبان سے آتا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ زبان صرف 5 ذائقوں کو پہچانتی ہے جیسے میٹھا، نمکین، کھٹا، کڑوا اور امامی۔ 80 فیصد حقیقی ذائقے ناک سے آتے ہے۔ جب ہم کھانا چباتے ہیں تو مہک منہ سے ناک کی طرف جاتی ہے۔ ناک کے اندر موجود رسیپٹرز انہیں پڑھتے ہیں اور مکمل ذائقہ دماغ میں منتقل کرتے ہیں۔ لیکن جب ناک بند ہو جائے تو یہ مہک نہیں پہنچ سکتی۔ نتیجے کے طور پر کھانے کا ذائقہ مکمل طور پر ہلکا ہو جاتا ہے، جیسے کارڈبورڈ (گتا) لگتا ہے۔ آرٹیمیس 2 کے عملے کو کھانے کے اوقات میں اسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Published: undefined
تازہ کھانا زیادہ دیر تک خلا میں ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے 1-2 دنوں کے علاوہ آرٹیمیس 2 پر باقی سب کھانا خشک، ریہائیڈریٹیبل، ہائی ہیٹ پروسیسڈ یا تابکاری سے محفوظ کیا ہوا ہے۔ اس عمل کے دوران کھانے کی خوشبو والے عناصر پہلے ہی بہت کم ہوجاتے ہیں۔ مہینوں تک ذخیرہ کے دوران اور بھی ذائقہ کم ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ناک بند ہونے کا مسئلہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ کیپسول کے اندر مشینری کی بو، ری سائیکل شدہ ہوا اور دیگر بدبو کھانے کے ذائقے کو مزید خراب کرتے ہیں۔ نتیجتاً کھانا صرف کیلوریز فراہم کرتا ہے لیکن کوئی ذائقہ نہیں۔
Published: undefined
جب کھانا مزید لطف اندوز نہیں ہوتا ہے، تو کھانا ایک فیصلہ بن جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ خلاباز کم کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ خلابازوں کی توانائی کی مقدار ضرورت سے 25 فیصد کم رہتی ہے۔ یہ پٹھوں کو کمزور کرتا ہے، مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور دماغ کے کام کو متاثر کرتا ہے۔ ناسا اسے ایک ’سرخ خطرہ‘ سمجھتا ہے، یعنی ابھی تک کوئی مکمل حل نہیں ہے۔
Published: undefined
’ہاٹ ساس‘ میں موجود کیپسائسن نامرعنصر ناک کے ذریعے نہیں بلکہ ٹرائزیمنل نرو کے ذریعے کام کرتا ہے۔ یہ گرمی اور درد کا احساس سیدھے دماغ تک پنچاتا ہے۔ خواہ ناک کتنی بھی بند ہو۔ اس اس سے کھانا مسالہ دار دکھائی دیتا ہے، دماغ کو اشارہ کرتا ہے کہ کچھ تو ہے۔ اس سے خلاباز بے ذائقہ کھانا کھانے کے لئے مجبور نہیں ہوتے۔ پانچ گرم ساس بھیجی گئیں کیونکہ وہ مسئلہ کو مکمل طور پر حل نہیں کرتی ہیں لیکن وہ کھانے کو مکمل طور پر بے ذائقہ ہونے سے بچاتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined