ہاکی

ہاکی ایشیا کپ سے نام واپس لینے والی پاکستانی ٹیم ’ایف آئی ایچ جونیئر ورلڈ کپ‘ کے لیے ہندوستان آنے کو تیار

جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 2025 کا انعقاد رواں سال 28 نومبر سے 10 دسمبر تک چنئی اور مدورائی میں کیا جائے گا، جس میں 24 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ہندوستان کو پول-بی میں روایتی حریف پاکستان کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس 

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد آپسی رشتے کافی خراب ہو گئے ہیں۔ اس کا اثر کھیل پر بھی کافی پڑا ہے، خواہ وہ کرکٹ ہو یا ہاکی۔ حال ہی میں پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشیا کپ کے لیے ہندوستان نہ آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن ایف آئی ایچ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ سے قبل ایک بڑا اپڈیٹ سامنے آیا ہے۔ ہاکی انڈیا کے جنرل سکریٹری بھولا ناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے رواں سال کے اخیر میں منعقد ہونے والے ایف آئی ایچ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں اپنی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔

Published: undefined

ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ ہاکی کی دنیا میں ایک باوقار ایونٹ ہے، جس میں دنیا کی انڈر-21 کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل سطح پر اپنے ہنر کو دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی مستقبل کے ستاروں کو ابھرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہندوستان، جو ہاکی میں اپنی وراثت کے لیے جانا جاتا ہے، اس بار اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا۔ ایف آئی ایچ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 2025 کا انعقاد رواں سال 28 نومبر سے 10 دسمبر تک چنئی اور مدورَے میں کیا جائے گا، جس میں کُل 24 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ہندوستان کو پول-بی میں روایتی حریف پاکستان، چِلی اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جرمنی موجودہ جونیئر مینس ورلڈ چمپئن ہے، جس نے 2023 کے فائنل میں فرانس کو 1-2 سے شکست دے کر ریکارڈ ساتواں خطاب اپنے نام کیا تھا۔

Published: undefined

دوسری جانب بہار کے راجگیر میں جاری ہاکی ایشیا کپ 2025 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پہلے ہی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) اور اے ایچ ایف دونوں کو مطلع کر دیا تھا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ہندوستان میں ٹیم بھیجنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ لیکن ایف آئی ایچ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined