فٹبال

ایرانی ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے درمیان دیا امن کا پیغام، جذباتی نوٹ وائرل

ایران کی ٹیم کے لیے فیفا ورلڈ کپ مہم آسان نہیں رہی ہے۔ یو ایس اے میں نافذ سفری پابندیوں کی وجہ سے ٹیم کو 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک امریکی سرحد کے اندر رہنے کی اجازت نہیں ملی۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو&nbsp;<a href="https://x.com/mb_ghalibaf">@mb_ghalibaf</a></p></div>

فوٹو @mb_ghalibaf

 

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرنے والی ایران کی ٹیم نے میدان کے باہر ایسا قدم اٹھایا جس کی بڑے پیمانے پر تعریف ہو رہی ہے۔ پیر کے روز بیلجیم کے خلاف 0-0 سے ڈرا کھیلنے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں نے لاس اینجلس کے سوفی اسٹیڈیم کے ڈریسنگ روم میں ایک جذباتی نوٹ چھوڑا، جس سے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین جذبات میں آ گئے۔ یہ نوٹ صرف میزبانوں کا شکریہ ادا کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں اپنے ملک، مداحوں اورعالمی امن کے لیے بھی جذبات جھلک رہے تھے۔ ایران فٹ بال فیڈریشن نے بعد میں اس نوٹ کو عام کیا، جس کے بعد یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

Published: undefined

نوٹ میں لکھا تھا کہ ’’ہزاروں سال قبل قدیم فارس سے لے کر جدید دور کے مہذب ایران تک، ایران کا جذبہ آج بھی زندہ اور غیر متزلزل ہے۔ لاس اینجلس، آپ کی مہمان نوازی کا شکریہ۔ ہم فخر کے ساتھ یہاں آئے، عزت کے ساتھ کھیلے اور وقار کے ساتھ وداع ہو رہے ہیں۔‘‘ ایرانی ٹیم نے ان ہزاروں شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دونوں مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم کو تقریباً گھریلو میدان جیسا بنا دیا۔ لاس اینجلس دنیا کی سب سے بڑی ایرانی برادریوں میں سے ایک کا گھر ہے، اور اس کا اثر اسٹینڈز میں صاف طور پر دکھائی دیا۔ ٹیم نے لکھا کہ ’’ہر اس ایرانی کا شکریہ جس نے ان 180 منٹوں کے دوران اپنے دل، اپنی آواز اور اپنی جان سے ہماری حمایت کی۔‘‘

Published: undefined

اس نوٹ کے آخر میں دنیا کے لیے ایک خاص پیغام بھی تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ ’’ہم دعا کرتے ہیں کہ تمام ممالک کے درمیان امن، احترام اور دوستی قائم رہے۔‘‘ اس جذباتی پیغام میں#168  اور #Minab جیسے ہیش ٹیگ بھی استعمال کئے گئے۔ یہ ایران کے میناب شہر میں ایک اسکول پر امریکہ اور اسرائیل ک کی جانب سے کئے گئے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس نے ایران کے ساتھ تقریباً پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس طرح ایرانی کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے درد کو بھی دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔

Published: undefined

ایران کی ٹیم کے لیے فیفا ورلڈ کپ مہم آسان نہیں رہی ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ (یو ایس اے) میں نافذ سفری پابندیوں کی وجہ سے ٹیم کو 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک امریکی سرحد کے اندر رہنے کی اجازت نہیں ملی۔ اسی وجہ سے  کھلاڑیوں کو اپنا بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو کے شہر تجوانا میں بنانا پڑا۔ ہر مقابلے کے لیے ٹیم کو سرحد پار کر کے یو ایس اے آنا جانا پڑا۔ اتنا ہی نہیں کچھ افسران اور معاون عملے کو ویزا سے متعلق مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے اسٹار ونگر مہدی ترابی کو تو نیا ویزا حاصل کرنے کے لیے امریکی قونصلیٹ تک جانا پڑا۔

Published: undefined

ایران کے ہیڈ کوچ امیر غلنوی نے بیلجیم کے خلاف میچ کے بعد کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم پورے ٹورنامنٹ کی سب سے زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنے والی ٹیم رہی ہے۔ غلنوی نے کہا کہ ’’ہم شاید پورے ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والی ٹیم ہیں۔ ان حالات میں بھی کھلاڑیوں نے جس طرح کا فٹ بال کھیلا ہے، اس پر مجھے فخر ہے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined