DW

یرغمالیوں کی رہائی: بلنکن کی اسرائیلی کابینہ ارکان سے ملاقات

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 132 افراد موجود ہیں، جبکہ 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یرغمالیوں کی رہائی: بلنکن کی اسرائیلی کابینہ ارکان سے ملاقات
یرغمالیوں کی رہائی: بلنکن کی اسرائیلی کابینہ ارکان سے ملاقات 

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی جنگی کابینہ میں موجود اعتدال پسندوں کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔یہ بات چیت اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے حماس کے مطالبات مسترد کیے جانے کے ایک روز بعد ہوئی۔

Published: undefined

بلنکن نے تل ابیب میں دو سابق فوجی سربراہوں بینی گینٹس اور گیبی آئزن کوٹ سے ملاقات کی۔ یہ دونوں سات اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملے کے بعد نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے تھے۔ اس ملاقات کے آغاز پر بلنکن نے کہا کہ ان مذاکرات میں ''یرغمالیوں اور اس خواہش پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ ہم دونوں (امریکہ اور اسرائیل) ان کی ان کے اہل خانہ میں واپسی دیکھیں۔‘‘

Published: undefined

اس موقع پر گینٹس نے بلنکن کو بتایا، ''یقینی طور پر سب سے اہم مسئلہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔‘‘ گینٹس کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر بہت سے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے اور اس کے جواب میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اس وقت پانچویں مرتبہ اس خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر حماس کا ردعمل لے کر اسرائیل پہنچے، جو انہیں قطر کے ذریعے موصول ہوا تھا۔

Published: undefined

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ سات فروری کو اس معاہدے کی شرط کے طور پر جنگ بندی کے حماس کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ جنوبی غزہ کے گنجان آباد شہر رفح تک فوجی کارروائیوں کو وسعت دے دیں گے۔ تاہم بلنکن کا کہنا تھا کہ انہیں پھر بھی اس معاہدے میں بہتری لانے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی گنجائش نظر آتی ہے۔

Published: undefined

اسرائیل کی سرکاری معلومات کی بنیاد پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کی طرف سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کو اسرائیل کے اندر حماس کے دہشت گردانہ حملے میں تقریباﹰ 1,160 افراد ہلاک ہوئے تھے ، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

Published: undefined

حماس کے عسکریت پسند تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر غزہبھی لے گئے تھے۔ ان میں سے قریب 100 یرغمالیوں کو ایک عبوری فائر بندی معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 132 افراد موجود ہیں، جبکہ 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

Published: undefined

سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں میں اب تک کم از کم 27,708 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined