ثقافت

یروشلم کے قریب ڈیڑھ ہزار سال پرانے بازنطینی کلیسا کی دریافت

اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے یروشلم سے مغرب کی طرف تقریباﹰ ڈیڑھ ہزار سال پرانے ایک کلیسا کی باقیات دریافت کی ہیں، جن پر یونانی زبان میں ایک ایسا حوالہ بھی ہے، جس میں ’شان و شوکت والے شہید‘ کا ذکر ہے

یروشلم کے قریب ڈیڑھ ہزار سال پرانے بازنطینی کلیسا کی دریافت
یروشلم کے قریب ڈیڑھ ہزار سال پرانے بازنطینی کلیسا کی دریافت 

تل ابیب سے بدھ تیئیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اس قدیم مسیحی عبادت خانے کی باقیات پر ایسے شاندار نقش و نگار بنے ہوئے ہیں، جن میں مختلف اقسام کے درختوں کے پتے، پھل اور طرح طرح کے پرندے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس چرچ کی باقیات پر یونانی زبان میں ایک ایسا حوالہ بھی دیکھا گیا ہے، جس میں 'شان و شوکت والے شہید‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کے تاریخی باقیات کی کھدائی کے شعبے کے سربراہ بینجمن سٹورچن نے کہا، ''ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ شہد کون تھا۔‘‘ انہوں نے بتایا، ''اس قدیمی چرچ کی جن باقیات کا پتہ چلایا گیا ہے، ان پر بڑی متنوع نقش نگاری کی گئی ہے۔

Published: undefined

اس تقریباﹰ 1500 سال پرانے تعمیراتی ڈھانچے کے چند باقی ماندہ ستون ایسے بھی ہیں، جو ممکنہ طور پر کہیں دور سے درآمد کر کے اس چرچ کی تعمیر میں استعمال کیے گئے تھے۔‘‘

Published: undefined

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ یروشلم شہر سے مغرب کی طرف ماہرین آثار قدیمہ کی طرف سے کھدائی کے دوران تقریباﹰ 1500 مربع میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ایک ایسی جگہ دریافت ہوئی، جس کے عین وسط میں قدیم بازنطینی دور کے ایک کلیسا کی باقیات موجود تھیں۔

Published: undefined

اب تک یہ طے ہو چکا ہے کہ اس چرچ کا پہلا حصہ چھٹی صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ بینجمن سٹورچن نے بتایا، ''یہ بھی ممکن ہے کہ اس کلیسا کی عمارت کے اب تک موجود ایک حصے میں جس 'شان و شوکت والے شہید‘ کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی جسمانی باقیات بھی شاید اسی چرچ کے نیچے ایک زیر زمین کمرے میں دفن کی گئی ہوں۔‘‘

Published: undefined

اس قدیمی کلیسا کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف یروشلم کے نواح میں بیت شمیش نامی مقام پر ایک نئے رہائشی علاقے کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران ہوا۔ ان تاریخی باقیات کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد وہاں ماہرین آثار قدیمہ کی طرف سے کی جانے والی کھدائی پر تقریباﹰ 1.8 ملین یورو خرچ ہوئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined