
آئی ایس بندرا / سوشل میڈیا
نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب بند ہو گیا۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کے سابق صدر اندرجیت سنگھ بندرا 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے دہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور اتوار کے روز دوپہر کے بعد ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی، جس کے بعد شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی آخری رسومات پیر کی دوپہر دہلی کے لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔
Published: undefined
اندرجیت سنگھ بندرا کا شمار ہندوستانی کرکٹ کے اُن منتظمین میں ہوتا ہے جنہوں نے کھیل کو محض میدان تک محدود رکھنے کے بجائے ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1993 سے 1996 کے درمیان بی سی سی آئی کے صدر رہے۔ ان کے دورِ صدارت میں ہندوستانی کرکٹ نے انتظامی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کیا۔
وہ طویل عرصے تک پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ رہے اور 1978 سے 2014 تک تقریباً 36 برس اس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی طویل اور مؤثر وابستگی کے بعد انہوں نے کرکٹ انتظامیہ سے باقاعدہ کنارہ کشی اختیار کی۔ موہالی میں واقع پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم کی تعمیر اور ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم رہا، جس کے اعتراف میں اس اسٹیڈیم کو انہی کے نام سے منسوب کیا گیا۔
Published: undefined
عالمی کرکٹ میں ہندوستان کے کردار کو وسعت دینے میں بھی اندرجیت سنگھ بندرا کی خدمات نمایاں رہیں۔ 1987 کے عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی ہندوستان اور پاکستان کو ملنا ایک تاریخی پیش رفت تھی، اور اس میزبانی کے حقوق حاصل کرنے میں بندرا کی کوششیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب کرکٹ کا عالمی کپ انگلینڈ سے باہر منعقد ہوا، جس نے ایشیا میں کرکٹ کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
1994 میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک اہم عرضی دائر کی، جس کے نتیجے میں کرکٹ نشریات پر دوردرشن کی اجارہ داری ختم ہوئی۔ اس فیصلے کو ہندوستانی کرکٹ کی تجارتی اور نشریاتی تاریخ کا اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی کے بعد عالمی نشریاتی اداروں کی آمد ممکن ہوئی اور ہندوستان کرکٹ کا سب سے بڑا ٹیلی وژن بازار بن کر ابھرا۔
Published: undefined
ان کے انتقال پر بی سی سی آئی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ سابق صدر اندرجیت سنگھ بندرا کے انتقال پر رنجیدہ ہے اور اس مشکل گھڑی میں ان کے اہل خانہ اور قریبی افراد کے ساتھ کھڑا ہے۔ کرکٹ برادری کی جانب سے انہیں ایک دور اندیش منتظم اور کھیل کے مخلص خادم کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، جن کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined