کرکٹ

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو مشترکہ فَاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا: سابق کرکٹرس

نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 16 باؤنڈری لگائیں جبکہ انگلینڈ نے 24 باؤنڈری لگائی تھیں۔ انگلینڈ اس بنیاد پر فاتح بن گیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے صرف ایک لفظ میں اپنی رائے دی، ’سفاکانہ‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: عالمی کپ فائنل میں سپر اوور بھی ٹائی ہو جانے کے بعد سب سے زیادہ باؤنڈری کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دینے پر سابق کرکٹرز نے آئی سی سی کے اس ضابطے کو کافی سفاکانہ بتایا اور کئی کھلاڑیوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

عالمی کپ کی تاریخ کے سب سے دلچسپ مقابلے میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے 50 اوور کے بعد 241 رن کا اسکور رہا تھا۔ اس کے بعد پہلی بار عالمی کپ میں سپر اوور کا سہارا لیا گیا جس میں دونوں ٹیموں نے 15-15 رن بنائے۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق سپر اوور ٹائی رہنے پر وہی ٹیم فاتح بنتی ہے جس نے مقررہ 50 اوور کے دوران زیادہ باؤنڈری ماری ہوں۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 16 باؤنڈری لگائی تھیں جبکہ انگلینڈ نے 24 باؤنڈری لگائی تھیں۔ انگلینڈ اس بنیاد پر فاتح بن گیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے اس پر صرف ایک لفظ میں اپنی رائے دی، "سفاکانہ"

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

ہندستانی ٹیسٹ بلے باز چتیشور پجارا نے بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کے لیے یہ ہار بدقسمتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس مقابلے میں کوئی بھی ٹیم نہیں ہاری۔ دونوں کو فاتح ٹرافی دی جانی چاہیے تھی۔ آئی سی سی کو اپنے اس ضابطے کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا اس لئے کوئی اس بارے میں سوچ نہیں پایا۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

فائنل میں مین آف دی میچ بنے بین اسٹوکس کے والد جیرارڈ اسٹوکس کا بھی خیال ہے کہ فاتح ٹرافی کو دونوں ٹیموں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تھا۔ جیرارڈ نیوزی لینڈ کے سابق رگبی انٹرنیشنل کھلاڑی ہیں اور انہوں نے فائنل میں اپنے بیٹے کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ بین اسٹوکس کی پیدائش کرائسٹ چرچ میں ہوئی تھی اور وہ 12 سال کی عمر تک نیوزی لینڈ میں رہے تھے جس کے بعد ان کا خاندان انگلینڈ چلا گیا تھا جہاں جیرارڈ کو رگبی کی کوچنگ کام ملا تھا۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

سابق ہندستانی کرکٹر گوتم گمبھیر نے بھی اس ضابطے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہو سکتا ہے کہ کس نے زیادہ باؤنڈری لگائیں۔ مضحکہ خیز ضابطہ۔ ٹائی مان کر دونوں کو فاتح قرار دینا چاہیے تھا۔ میں دونوں ٹیموں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اتنا زبردست فائنل کھیلا۔ میرے لئے دونوں فاتح ہیں کرکٹ آئیکن سچن تندولکر نے کہا کہ زبردست مقابلہ۔ پہلی سے لے کر 612 ویں گیند تک۔ مجھے نیوزی لینڈ کے لیے دکھ ہو رہا ہے جس نے جیتنے کے لئے انگلینڈ کی طرح سب کچھ کیا لیکن آخر میں چوک گئے۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

سابق ہندستانی کرکٹر وریندر سہواگ نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے زبردست مقابلہ کیا لیکن اوور تھرو پر اسٹوکس کے بلے کا ڈفلیکشن اور انگلینڈ کو باؤنڈری ملنا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ نیوزی لینڈ کے لیے المناک جو قریب پہنچ کر بھی وہ خطاب سے دور رہے۔ لیکن انہیں خود پر فخر ہونا چاہیے۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر اسکاٹ اسٹائرس نے اس ضابطے کو ایک مذاق بتایا۔ انگلینڈ کے سابق کرکٹر مائیکل وان نے فائنل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM IST