
مشیل اسٹارک، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @ICC
آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان ڈارون میں جمعرات (13 اگست) کو شروع ہوئے پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن ایسا نظارہ دیکھنے کو ملا جس کا شاید ہی کسی نے تصور کیا ہوگا۔ بنگلہ دیشی تیز گیند بازوں کے سامنے آسٹریلیا کی مضبوط مانی جانے والی بلے بازی بری طرح لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم صرف 198 رن پر آل آؤٹ ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے صرف اسٹیون اسمتھ نے 71 رن کی اننگ کھیلی، ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز 30 رن کا بھی ہندسہ عبور نہیں کر سکا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے تیز گیند باز حسن محمود نے 6، تسکین احمد اور عبادت حسین نے 2-2 وکیٹیں حاصل کیں۔ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک بنگلہ دیش کی ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 96 رن بنا لیے ہیں سلامی بلے باز تنزید حسن تمیم (32 ناٹ آؤٹ) اور مومن الحق (35 ناٹ آؤٹ) رن بنا کر کریز پر موجود ہیں۔ سلامی بلے باز شادمان اسلام کو مشیل اسٹارک نے اپنا شکار بنایا، انہوں نے 20 رن بنائے۔
اس دوران آسٹریلیا کے تیز گیند باز مشیل اسٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بڑی کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ڈارون میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میں شادمان اسلام کی وکٹ لیتے ہی اسٹارک ٹیسٹ تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بائیں ہاتھ کے گیند باز بن گئے ہیں۔ 36 سالہ مشیل اسٹارک نے اس معاملے میں سری لنکا کے عظیم اسپنر رنگنا ہیراتھ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں ہندوستان کے عظیم کپتان کپل دیو کی برابری پر بھی پہنچ گئے ہیں۔
434ویں ٹیسٹ وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ہی مشیل اسٹارک نے ہندوستان کے عظیم کپتان اور آل راؤنڈر کپل دیو کی بھی برابری کر لی ہے۔ کپل دیو نے 1978 سے 1994 کے دوران 131 ٹیسٹ میچ کھیل کر 434 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اسٹارک نے یہ ہدف اپنے 106 ویں ٹیسٹ میچ میں ہی حاصل کر لیا۔ یہ دونوں اب ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں مشترکہ طور پر 11 ویں نمبر پر ہیں۔
434 – مشیل اسٹارک (آسٹریلیا)
433 - رنگنا ہیراتھ (سری لنکا)
414 – وسیم اکرم (پاکستان)
362 - ڈینیل وٹوری (نیوزی لینڈ)
355 - چمنڈا واس (سری لنکا)
348 - رویندر جڈیجہ (ہندوستان)
مشیل اسٹارک کی نظریں اب ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے کامیاب 10 گیند بازوں میں جگہ بنانے پر ہوں گی۔ جنوبی افریقہ کے عظیم تیز گیند باز ڈیل اسٹین 439 وکٹوں کے ساتھ اس فہرست میں 10 ویں نمبر پر ہیں۔ اسٹارک کی 434 وکٹیں ہیں اور وہ اسٹین سے صرف 5 وکٹیں پیچھے ہیں۔ یعنی اسٹین کو پیچھے چھوڑ کر ٹاپ-10 میں پہنچنے کے لیے انہیں مزید 6 وکٹوں کی ضرورت ہے۔ جس رفتار سے اسٹارک وکٹیں حاصل کر رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے وہ جلد ہی اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے اکتوبر 2010 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔