’میں سبھی سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس حکومت کو ہٹاؤ‘، حراست میں لیے جانے کے بعد پرینکا کا تلخ تبصرہ
پرینکا نے کہا کہ ’’یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت ہے۔ اس کے کچھ اصول ہیں، جو آئین میں ہیں۔ اس حکومت کو آئین کے لیے کام کرنا چاہیے، لیکن حکومت سبھی اصول توڑ رہی ہے۔‘‘

’’اس حکومت کو ہٹانے کے علاوہ مزید کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ میں ہر باشندگانِ ملک سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس حکومت کو ہٹاؤ۔ اگر آپ اس حکومت کو نہیں ہٹائیں گے تو یہ ملک گڈھے میں چلا جائے گا۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ کانگریس جنرل سکریٹری و رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے دہلی پولیس کے ذریعہ جبراً حراست میں لیے جانے کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کیا ہے۔ حراست میں بس کے اندر بنائی گئی ان کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔
دراصل پرینکا گاندھی جنتر منتر جانے کی کوشش کر رہی تھیں، جہاں دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ وہ گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ حالانکہ دہلی پولیس نے پرینکا گاندھی کے ساتھ ساتھ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور دیگر درجنوں اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا اور انھیں جنتر منتر پہنچنے ہی نہیں دیا۔ اس کارروائی کو پرینکا گاندھی نے جمہوریت مخالف قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’یہ (ہندوستان) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت ہے۔ اس کے کچھ اصول ہیں، جو آئین میں ہیں۔ اس حکومت کو آئین کے لیے کام کرنا چاہیے، لیکن یہ حکومت سبھی اصول توڑ رہی ہے۔‘‘
ایس آئی آر اور گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی جاری تحریک کا ذکر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’کل سے 300 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ ہم الیکشن کمشنرز سے ملنا چاہتے ہیں، ہم ان کو ’ووٹ چوری‘ کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں اور ان کا استعفیٰ مانگنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہمیں ان کے اوپر بھروسہ نہیں ہے... لیکن اراکین پارلیمنٹ کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن ملک کی عوام کے لیے ہے اور ہم عوام کے نمائندہ ہیں۔ ہم امن کے ساتھ جا کر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت اتنی بزدل ہے کہ وہ عوام کی آواز سے ڈرتی ہے۔ اس لیے ہر جگہ مظاہرہ روک رہی ہے۔‘‘
اس درمیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ جبراً حراست میں لیے جانے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’’یہ سب گھبراہٹ میں کیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، لیکن ہم انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا کر رہیں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میری گارنٹی ہے کہ ان چاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، کیونکہ انھوں نے آئین پر حملہ کیا ہے، انھوں نے عوام کی آواز پر حملہ کیا ہے، انھیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
