ملک

سفرنامہ: قصہ ’سلی سیڑھ جھیل‘ کی سیر کا... ڈاکٹر سلمان فیصل

<div class="paragraphs"><p>سلی سیڑھ جھیل، تصویر بشکریہ ڈاکٹر سلمان فیصل</p></div>

سلی سیڑھ جھیل، تصویر بشکریہ ڈاکٹر سلمان فیصل

 

سیر و سیاحت انسان کے ذہن و دل میں ایک تازگی اور شگفتگی پیدا کرتی ہے۔ یہ محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو علم میں اضافہ کرتا ہے، سوچ کے زاویے کھولتا ہے اور زندگی کی یکسانیت کو توڑ دیتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے مناظر اور اپنی سانسوں میں گھلنے والی فضائیں وہ کچھ عطا کرتی ہیں جو کتابوں کے اوراق پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ البتہ سفرنامے پڑھنے سے دوسروں کے تجربات اور احساسات سے ضرور روشنی ملتی ہے اور کبھی کبھی تو یہ تحریریں ہمیں بھی سفر پر نکلنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

Published: undefined

سلی سیڑھ پیلیس

ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ پچھلے دنوں یوں ہی بیٹھے بیٹھے ہم 4 دوستوں کا ارادہ بن گیا کہ قریب ہی کہیں گھومنے جایا جائے۔ طے یہ پایا کہ دہلی سے زیادہ دور نہیں راجستھان کے ضلع الور میں واقع ’سلی سیڑھ جھیل‘ کی سیر کی جائے۔ نام سنتے ہی دل میں ایک انجانی کشش نے انگڑائی لی۔ یوں لگا جیسے پانی کی لہریں ہمیں آواز دے رہی ہوں، پہاڑ اپنی خاموشی کے ساتھ بانہیں پھیلائے منتظر ہوں اور جھیل کے کنارے کھڑا محل اپنی پرانی داستانیں سنانے کو بے تاب ہو۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے گاڑی نکالی اور سفر شروع کر دیا۔ آئیے آپ کو بھی اس تحریر کے ذریعے اپنا ہمسفر بنا لیتے ہیں تاکہ آپ بھی ہماری آنکھوں سے اس جھیل کے حسن کو دیکھ سکیں اور ہمارے ساتھ وہ سب محسوس کریں جو اس سفر نے ہمیں عطا کیا۔

Published: undefined

راجستھان کے الوَر سے ذرا سا جنوب مغرب کی سمت چلیں تو تقریباً 16 کلو میٹر کے فاصلے پر اراولی کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک پرسکون جھیل آپ کا استقبال کرتی ہے۔ یہ ہے ’سلی سیڑھ جھیل‘ جو 1845ء میں مہاراجہ ونئے سنگھ نے رپیرل ندی کی ایک شاخ پر بند باندھ کر بنائی۔ اس کا مقصد الور شہر کو پانی کی فراہمی تھا۔ اس جھیل سے الور تک ایک آبراہ (Aqueduct) آج بھی موجود ہے، البتہ کہیں کہیں آبادی میں وہ دب گئی ہے۔ آبراہ کی شکل ایک مضبوط، پختہ اور ڈھلوان والی نالی کی ہوتی تھی جو ضرورت کے مطابق زمین کے اندر سرنگ، عام زمین پر کھدی ہوئی کم چوڑائی کی نہر یا اونچی اٹھی ہوئی محرابی عمارت کی شکل کی ہوتی تھی۔ اس کا مقصد کم سے کم ضائع ہوتا ہوا صاف پانی محنت اور کشش ثقل کے اصول پر دور دراز تک پہنچانا تھا۔ اسی جھیل کے کنارے راجہ نے اپنی ملکہ شیلا دیوی کے لیے ایک خوبصورت محل بھی تعمیر کرایا جو بعد میں شاہی شکار گاہ کے طور پر استعمال ہوا اور آج سیاحوں کے قیام کے لیے ایک ہوٹل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

Published: undefined

سلی سیڑھ جھیل

بتایا جاتا ہے کہ اسے ’شیلا سرووَر‘ کہا جاتا تھا، لیکن یہ نام زبانِ خلق میں بگڑتے بگڑتے ’سلی سیڑھ‘ ہو گیا۔ حالانکہ اس کی عظمت اور کشش کبھی مدھم نہ ہوئی۔ محل کے جھروکوں سے جھانکیے تو جھیل کا منظر یوں دکھائی دیتا ہے جیسے فطرت نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک ایسی تصویر تراشی ہو جو حسن و عشق کے قصے بیان کرتی ہو۔ محل کے دامن میں کمرے بھی موجود ہیں جہاں قیام کیا جا سکتا ہے۔ دل نے چاہا کہ یہیں رات بسر کریں اور چاندنی رات میں جھیل کا جادو دیکھیں، جب پانی کی سطح آئینے کی طرح نورانی ہو جاتی ہے اور فضا ایک خاموش نغمہ چھیڑ دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رات میں جھیل کا حسن ایسا سحر طاری کرتا ہے کہ لمحے ساعتوں اور ساعتیں صدیوں میں بدل جاتی ہیں۔

Published: undefined

محل کے اندر ہی ایک ریسٹورینٹ ہے جہاں ہندوستانی اور کانٹی نینٹل کھانے دستیاب ہیں۔ اگرچہ ہمارے قافلے نے صرف چائے اور پکوڑوں سے دل بہلایا، مگر یہ حقیقت ہے کہ یہاں کھانے پینے کی بھرپور سہولتیں موجود ہیں۔ دراصل راستے میں ایک ڈھابے پر اس قدر سیر ہو چکے تھے کہ یہاں کچھ کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔

Published: undefined

سلی سیڑھ جھیل

جھیل کی سطح پر چمکتی دھوپ اور ارد گرد پہاڑیوں کا سبزہ ایسا منظر پیدا کرتا ہے جسے دیکھ کر انسان لمحہ بھر کو وقت بھول جائے۔ صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک یہ جھیل کھلی رہتی ہے اور داخلے کے لیے 100 روپے کی معمولی فیس وصول کی جاتی ہے، جس میں پارکنگ شامل ہے۔ یہ سہولت بھی اپنے آپ میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔

Published: undefined

الور تک ریل، بس یا اپنی گاڑی سے پہنچ سکتے ہیں۔ الور ریلوے اسٹیشن سے جھیل تک پہنچنے کے لیے تقریباً 16 کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ دہلی سے آنے والوں کے لیے ریل کی سہولت کے علاوہ کشمیری گیٹ یا آنند وہار بس اڈے سے الور تک براہِ راست بسیں بھی دستیاب ہیں۔ الور سے مقامی آٹو رکشہ یا بس آپ کو سلی سیڑھ جھیل تک لے جاتی ہے۔ یوں سفر نہایت سہل اور سہل ترین بنا دیا گیا ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے سفر کرنا چاہیں تو دہلی سے گروگرام کے راستے ممبئی ایکسپریس وے سے جائیں اور بھرت پور الور روڈ کے پاس ایکسپریس وے چھوڑ کر دائیں جانب الور شہر کی طرف چل پڑیں۔ الور شہر میں داخل ہونے سے پہلے بائیں جانب مڑ کر جھیل جانے والے راستے پر 13 کلو میٹر کا سفر طے کر کے پہنچ سکتے ہیں۔

Published: undefined

سلی سیڑھ جھیل

جھیل کے کنارے بیٹھ کر چائے اور مقامی انداز کے پنیر پکوڑے کھانے کا لطف سفر کی تھکن کو کمال مہارت سے دور کر دیتا ہے۔ اگر دل یہ چاہے کہ رات بھر جھیل کی خاموشی اور چاندنی کا نظارہ کیا جائے تو محل کے اندر کرائے پر کمرے دستیاب ہیں جہاں جدید سہولتوں سے آراستہ قیام ممکن ہے۔ یہاں 12 کمرے ہیں، کچھ لگژری سویٹس، کچھ عام ایئر کنڈیشنڈ اور کچھ نان ایئر کنڈیشنڈ۔ ہر کمرہ اپنی سادگی اور نفاست میں شاہی روایت کا عکس پیش کرتا ہے۔ سیاحوں کے لیے کشتیاں بھی دستیاب ہیں جو اس جھیل کی سیر کو یادگار بنا دیتی ہیں۔ کبھی پانی کی نرم موجوں پر ہلکی سی ڈولتی کشتی اور کبھی پہاڑوں میں گونجتی پرندوں کی آوازیں، یہ سب مل کر ایک ایسا تجربہ پیش کرتے ہیں جو مدتوں ذہن میں محفوظ رہتا ہے۔

Published: undefined

سلی سیڑھ جھیل کی سیر کے لیے سب سے موزوں وقت اکتوبر سے فروری تک کے مہینے ہیں جب ہوا میں خوشگوار ٹھنڈک ہوتی ہے اور فضا میں ایک دلکش سکون بسا ہوتا ہے۔ برسات کے دنوں میں بھی جھیل اپنے حسن کو کئی گنا بڑھا لیتی ہے جب اردگرد کی پہاڑیاں سبز لباس اوڑھ کر منظر کو اور زیادہ دل فریب بنا دیتی ہیں۔ یہ جھیل محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ تاریخ، فطرت اور سکون کا حسین امتزاج ہے۔ جو بھی مسافر یہاں آتا ہے وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، وہ اپنے ساتھ یادوں کی ایسی پونجی لے جاتا ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔

Published: undefined

اگر آپ اپنی سیاحت کو مزید وسعت دینا چاہیں تو سلی سیڑھ کے آس پاس کئی دیدنی مقامات بھی ہیں۔ اراولی کی بلندیوں پر کھڑا بالا قلعہ اپنی فصیلوں اور بلند دروازوں کے ساتھ تاریخ کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ہم لوگ یہاں بھی گئے تھے، مگر کچھ دنوں قبل قلعہ تک جانے والی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے سبب راستہ بند کر دیا گیا تھا۔ لہٰذا ہمیں لب بام تک پہنچ کر واپس ہونا پڑا۔ کچھ فاصلے پر بھان گڑھ قلعہ ہے جس کے سنسان راہ داریوں نے پراسرار داستانوں کو جنم دیا۔ ہِل فورٹ کیسرولی اپنی قدامت کے ساتھ آج بھی سیاحوں کے قیام کی جگہ ہے اور راج گڑھ قلعہ شکستہ مگر باوقار حالت میں ماضی کی عظمت یاد دلاتا ہے۔

Published: undefined

ہم 4 لوگ یعنی علام الدین، ثاقب عمران، شاہ نواز فیاض اور میں، بالا قلعہ کے لب بام تک پہنچنے کے بعد بغیر دیکھے الور شہر کے درمیان سے راستہ طے کرتے ہوئے شام کو واپس ہو گئے۔ امید ہے کہ آپ بھی اس تحریر کے ذریعے ہمارے ساتھ رہے ہوں گے۔ تو اب دیجیے اجازت، مستقبل میں پھر کسی نئی جگہ کی سیر کے ساتھ دوبارہ آپ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined