چیف جسٹس آف انڈیا کے ممبئی دورے کے دوران ایئرپورٹ پر ایکناتھ شندے کی موجودگی، سنجے راؤت کا سوال
چیف جسٹس کے ممبئی دورے کے دوران ایئرپورٹ پر ایکناتھ شندے کی موجودگی پر سنجے راؤت نے سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پروٹوکول اور عدالتی غیر جانب داری کے تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا

ممبئی میں ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے حالیہ دورے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمان سنجے راؤت نے اس دورے کے دوران اختیار کیے گئے سرکاری طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی کو نامناسب قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست کے سیاسی حلقوں میں خاصی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔
سنجے راؤت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس دو دن قبل ممبئی پہنچے تھے اور سرکاری پروٹوکول کے مطابق ان کے استقبال کے لیے ریاست کے چیف سیکریٹری اور پروٹوکول سیکریٹری کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عام طور پر یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور قانونی طور پر بھی اسی کی اجازت ہے۔ راؤت کا کہنا تھا کہ اس طے شدہ ضابطے کے باوجود ایئرپورٹ پر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، کیونکہ اس کی کوئی واضح ضرورت یا جواز سامنے نہیں آتا۔
سنجے راؤت نے اپنے بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا اور اُدھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے درمیان اصل پارٹی کے حق سے متعلق قانونی تنازعہ چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے زیر التوا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ 3 برسوں سے فیصلے کا منتظر ہے۔ راؤت کے مطابق اس مقدمے میں ایکناتھ شندے خود ایک فریق ہیں، اس لیے ایسے حالات میں ان کا کسی جج کے استقبال کے لیے موجود ہونا مناسب نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی عمل کی غیر جانب داری ایک نہایت حساس اور بنیادی اصول ہے۔ اگر کسی زیر التوا مقدمے کا ایک فریق اس جج کا استقبال کرے جس کے سامنے اسی سے متعلق فیصلہ ہونا ہو تو عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ راؤت نے صاف لفظوں میں کہا کہ کسی بھی صورت میں یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ایک فریق عدالتی منصب پر فائز شخصیت کے استقبال کا کردار ادا کرے۔
سنجے راؤت نے شیوسینا تنازع کے فیصلے میں تاخیر پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود فیصلہ نہ آنا اور اس دوران اس طرح کے واقعات سامنے آنا عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس پورے معاملے کو محض سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ آئینی شائستگی اور عدالتی اقدار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
راؤت کے بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے عدالتی وقار اور آئینی حدود سے جوڑ کر دیکھ رہی ہیں، جبکہ حکمراں اتحاد کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔