فکر و خیالات

گم نام مجاہد آزادی: یعقوب حسن سیٹھ...برسی کے موقع پر

یعقوب حسن سیٹھ ایک تاجر، سیاست دان اور مجاہد آزادی تھے جنہوں نے قومی یکجہتی، خلافت و عدم تعاون تحریکوں اور برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا مگر تاریخ میں نظر انداز ہو گئے

<div class="paragraphs"><p>یعقوب حسن سیٹھ</p></div>

یعقوب حسن سیٹھ

 

وطن عزیز کی آزادی ایک لامتنائی عوامی جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز تاجران فرنگ کے ہندوستان میں ناپاک قدم رکھنے کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ جس میں بلا تخصیص مذہب و ملت لوگوں نے قربانیاں دیں اور جب تک ہندوستان کو برطانوی نو آبادیاتی نظام کے آہنی پنجوں سے آزاد نہ کرا لیا سکون سے نہیں بیٹھے۔ ایسے ہی مادر ہند کے عظیم سپوتوں میں سے ایک یعقوب حسن سیٹھ بھی ہیں، جو بیک وقت ایک کامیاب تاجر، سیاست داں اور جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔ جنہوں نے اپنے کاروبار کو پس پشت ڈال کر زندگی کے بہترین ایام، حصول آزادی کے لیے قربان کر دینے۔

Published: undefined

یعقوب حسن سیٹھ 1875 میں ناگپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدا ئی تعلیم گھر پر اور اسکولی تعلیم ناگپور سے حاصل کرنے کے بعد 1893 میں گریجویشن اے ایم او کالج علی گڑھ سے مکمل کیا۔ محض 18 سال کی عمر میں بنگلور جاکر کاروبار میں قسمت آزمائی، جہاں سے 1901 میں مدراس منتقل ہو گئے اور ایک عرصے تک نواب سی عبدالحکیم کے بین الاقوامی تاجر گماشتے کے طور پر کام کیا۔ اسی اثنا میں عوام کی خدمت کا جذبہ کارفرما ہوا اور عوامی فلاح و بہبودی میں بڑھ چڑھ کر حصہّ لینے لگے۔ جس کے پیش نظر مدراس بلدیہ کے رکن نامزد کیے گئے۔

Published: undefined

1906 میں آل ا نڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے فروغ و توسیع میں نمایاں کام انجام دیا، جو مدراس مسلم لیگ کے بانی مبانی میں سے ایک تھے۔ 1906 میں انگریزی ویکی مسلم پیٹریاٹ اور ایک اردو ہفت روزہ قومی ہلچل شائع کیے ،جن کی تقریباً دو سال تک پابندی کے ساتھ اشاعت جاری رہی۔ انہوں نے برطانوی حکومت اور فوج میں اہم عہدوں پر ہندوستانیوں کی جائز نمائندگی کے مسلے کو زور وشور سے اٹھایا۔ جب 1915 میں مہاتما گاندھی مدراس کے دورے پر آئے تو یعقوب حسن ان کی شخصیت سے بے حد مثاتر ہوئے۔ جس کے بعد وہ انڈین نیشنل کانگریس کے رکن بن گئے۔

مزید برآں جب بھی مہاتما گاندھی مدراس کا دورہ کرتے تو یعقوب سیٹھ ان کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ انہوں نے 1916 میں انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ لکھنؤ معاہدہ کرانے میں حتی المقدور کاوشیں کیں۔ وہ مدراس پریذیڈنسی کے واحد مسلم سیاست دان بھی تھے جو لکھنؤ معاہدے کے مسودے میں شامل تھے۔ اسی سال (1919 تا 1916) ساؤتھ انڈین چیمبرس آف کامرس کی طرف سے مدراس لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب کیے گئے۔

Published: undefined

1919 میں خلافت اور عدم تعاون تحریکوں میں متحرک رہے۔ مہاتما گاندھی کی ایما پر اپنے تمام سرکاری عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے حکومتِ ذی اختیار کی توجہ مبذول کرانے کے لیے دو مرتبہ لندن کا دورہ کیا۔ پہلی مرتبہ مسلم لیگ کی طرف سے، دوسری مرتبہ خلافت وفد کے رکن کی حیثیت سے جا کر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تبادلہ خیال کیا۔ انگریزی حکومت کی حکم عدولی کرتے ہوئے مالابار پہنچے، جہاں انہوں نے 1921ء میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے رات دن ایک کر دیا۔ جس کی بنا پر انگریز حکام کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ لہٰذا حکومت نے اوٹاپالم میں منعقدہ کیرالہ صوبائی کانگریس میں دی گئی ان کی تقریر پر بغاوت کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا اور مالابار جیل میں چھ ماہ کی سزا سنا کر بھیج دیا۔ لیکن رہائی کے بعد مزید سرگرمِ عمل ہو گئے۔

کانگریس کے ریذیمنٹل اجلاس میں شرکت کی اور انگریزی حکومت کی پالیسیوں کی صریح سخت تنقید کی، جس کے جرم میں ایک بار پھر دو سال کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیے گئے۔ 1927ء میں مدراس مسلم لیگ کے صدر بنائے گئے۔ این۔ جے۔ رنگا کی یونائیٹڈ نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور چتور اسمبلی حلقے سے منتخب ہوئے۔ بعد ازاں مسلم لیگ چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی، اس کے ٹکٹ پر 1937ء میں اسمبلی پہنچے۔

Published: undefined

1937ء تا 1939ء کے دوران راج گوپالہ آچاری کی کابینہ میں عوامی تعمیرات کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جب برطانیہ نے جرمنی کے خلاف دوسری عالمی جنگ کا صور پھونکا تو سیٹھ نے دیگر وزراء کے ساتھ استعفیٰ دے دیا۔ یعقوب حسن سیٹھ انڈین نیشنل کانگریس کے ان رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے آخری دم تک تقسیمِ ہند کی مخالفت اور متحدہ ہندوستان کی حمایت کی، مگر ان کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ قید و بند کے دوران قرآنِ مجید کی تفسیر تحریر کی جو نظامِ حیدرآباد کی مالی اعانت سے شائع ہوئی۔ قرآنِ حکیم اور دیگر مذہبی صحیفوں کے بارے میں بے پناہ معلومات کی وجہ سے مولانا کے لقب سے پکارے گئے۔ یعقوب حسن سیٹھ مارچ 1940ء میں وزارت سے مستعفی ہونے کے چند ماہ بعد حرکتِ قلب بند ہونے سے 23 مارچ 1940ء کو ربِ حقیقی سے جا ملے، لیکن شومیٔ قسمت ان کی قربانیوں کو نہ صرف تاریخِ ہند نے بلکہ عوام نے بھی نظر انداز کر دیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined