
تصویر سوشل میڈیا
’خبر لہریا‘ ہونے اور مقامی خبریں دینے کی ہماری کہانی 90 کی دہائی کے ہندوستان میں شروع ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب دنیا چھوٹی ہو رہی تھی، اور ’ترقی‘ کے لیے وسائل اور نئے خیالات آ رہے تھے۔ ہم ایسے ماحول میں پروان چڑھے، جہاں عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر، زندگی میں کچھ کرنے کا موقع دینے والی اسکیمیں بن رہی تھیں۔ مثال کے طور پر ’مہیلا سماکھیا پروگرام‘ اور آئین کی 73ویں ترمیم۔ 1986 کی قومی تعلیمی پالیسی کے بعد شروع ہونے والے ’مہیلا سماکھیا پروگرام‘ نے بالغ خواتین کو بااختیار بنانے والی تعلیم کا راستہ دکھایا۔ ہم نے خبر لہریا کی شروعات چترکوٹ میں کی تھی۔ وہاں یہ پروگرام چل رہا تھا۔ اس پروگرام سے ہمیں ایسی تعلیم ملی، جو اقتدار کے ڈھانچوں پر سوال اٹھاتی تھی۔ یہاں ہمیں مقامی سطح پر مل جل کر پڑھنے لکھنے اور چیزوں کو جاننے کا موقع ملا۔
Published: undefined
1992 میں آئین کی 73ویں ترمیم آئی، جس نے دیہی پنچایتوں میں عورتوں کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کیں۔ اگرچہ آزاد ہندوستان میں عورتوں کو ووٹ کا حق ہمیشہ سے حاصل تھا، لیکن اس قانون نے دیہات میں عورتوں کے لیے انتخاب لڑنے کا راستہ کھولا۔ اس سے جنس اور ذات جیسے ڈھانچے ہلے، جو سماج کے پرانے ڈھانچے کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ عورتوں کے جسم، محنت اور آواز پر اب صرف ان کے گھر والوں کا قبضہ نہیں تھا۔
Published: undefined
’خبر لہریا‘ کی شروعات اتر پردیش کے باندا ضلع میں 90 کی دہائی میں ’مہیلا سماکھیا پروگرام‘ کے تحت چلنے والے ’مہیلا شکشن کیندر‘ سے ہوئی، جہاں بالغ خواتین رہ کر پڑھنا لکھنا سیکھتی تھیں۔ وہاں خواتین کے ساتھ ورکشاپ میں ایک براڈ شیٹ تیار کیا گیا اور دیہات میں تقسیم کیا گیا۔ یہ جلد ہی مقبول ہو گیا۔ یہ مقامی زبان بندیلی میں پہلا اور واحد ایسا اخبار تھا، جو دور دراز دیہی زندگی کو مرکز میں رکھتا تھا اور ان کی روزمرہ کہانیوں کو ترجیح دیتا تھا اور اسے خواتین نے تیار کیا تھا۔ جب اس اخبار کو بنانے والی خواتین نے اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت مقرر کرنا شروع کی، تو یہ اخبار ایک بہت اہم چیز بنتا گیا۔ یہ صرف خواندگی سکھانے سیکھنے کا ایک ذریعہ نہیں رہا۔ ہمیں بھی یہ سمجھ آ رہا تھا کہ بیرونی دنیا میں بھی اس کی ضرورت ہے۔ دیہی، ناخواندہ خواتین ایک اخبار بیچ رہی تھیں! وہ اپنے گھروں سے نکل کر، جیپوں میں سوار ہو کر، ندیوں کو پار کر کے، لوگوں کو اسے خریدنے اور پڑھنے کی ترغیب دیتی تھیں اور لوگ اسے خریدتے تھے۔ اس سے ایک مستقل مقامی اخبار کا خیال پیدا ہوا، جو 2002 میں ’خبر لہریا‘ بنا۔
Published: undefined
’خبر لہریا‘ کا مقصد تھا ان لوگوں کی نظر سے دیہات کی خبریں سب کے سامنے لانا، جنہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا تھا اور جن کی آواز کو کوئی سنتا ہی نہیں تھا۔ ہم اس کے لیے بالکل صحیح جگہ پر تھے۔ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے، جہاں سب سے زیادہ اراکینِ پارلیمنٹ ہیں۔ یہاں آبادی گنجان ہے اور شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے دیہات تک ذات، طبقہ اور جنس کے ضابطے سختی سے مانے جاتے ہیں۔ باندا، جہاں بندیل کھنڈ واقع ہے، یوپی کی جنوبی سرحد پر ہے۔ پتھریلے، خشک سالی سے متاثر اور غربت کی تاریخ رکھنے والے پسماندہ بندیل کھنڈ میں سنسنی خیز جرائم عام تھے، لیکن پنچایت کے جمہوری ڈھانچے کی آڑ میں چلنے والے زمینداری نظام کی سیاست کو باقی اخبارات میں جگہ نہیں ملتی تھی۔ اس وقت کے اخبارات بھرے بھرے ہوتے تھے اور ایسی پیچیدہ زبان میں شائع ہوتے تھے، جو کوئی بولتا یا پڑھتا نہیں تھا (خاص طور پر ان اضلاع میں جہاں خواندگی کی شرح بہت کم تھی)، اور ان میں سے زیادہ تر میں دور دراز شہروں کی کہانیاں ہوتی تھیں، جن کا دیہاتیوں کی روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ یہ اخبارات بڑے کاروباری اداروں، سیاست دانوں یا اونچی سمجھی جانے والی ذاتوں کے مالکان کے ہاتھوں میں تھے اور بڑی حد تک اب بھی ہیں۔
Published: undefined
’خبر لہریا‘ واحد ایسا اخبار بن گیا، جو دیہی زندگی کو باریکی سے دکھاتا تھا۔ اسے ان خواتین نے لکھا اور تقسیم کیا، جو انہی دیہات سے تھیں اور وہاں کی زندگی، محنت، تشدد اور ثقافت کو سب سے بہتر جانتی تھیں۔ یہ اس زبان میں لکھا جاتا تھا، جو ہم بولتے تھے، ہمارے پڑوسی بولتے تھے اور ہمارے گاؤں کے سربراہ، پنچایت کے سیکریٹری اور افسر بھی بولتے تھے۔ ابتدا میں کچھ لوگوں کو اسے دیکھ کر ہنسی آتی تھی، لیکن پھر وہ بھی اس کے خریدار بن گئے۔ پڑھنا لکھنا نہ جاننا کوئی رکاوٹ نہیں تھا، گاؤں کے چبوتروں پر لوگ اسے ڈرامائی انداز میں زور زور سے پڑھتے، اسکول جانے والے بچے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی ماؤں کو اسے پڑھ کر سناتے۔
Published: undefined
دیہی خواتین کی نظر اور زبان کے ساتھ، یہ اخبار دیہی زندگی کو سمجھنے کا ایسا زاویہ لے کر آیا، جو کسی ’مرکزی دھارے‘ کے اخبار کے پاس نہیں تھا۔ یہ اخبار بتاتا تھا کہ کیوں کلاوتی کا روٹی بناتے وقت ’’اچانک‘‘ آگ سے جل جانا مشتبہ تھا، کیوں گنگارام تیواری، جس کے پاس تین بھینسیں، 10 بیگھہ زمین اور سرکاری ملازمت تھی، کو غریبوں کی رہائشی اسکیم میں فوراً مکان مل گیا، لیکن بے زمین، بیمار اہیروار کلو کی درخواست برسوں تک اٹکی رہی؛ کیوں تبسم کو اپنی معمولی بیوہ پنشن بینک سے نہیں مل پا رہی تھی؛ کیوں مقامی اسٹرنگر راجو (عرف عباس)، جو مقامی انتظامیہ کی تعریف میں مضامین لکھتا تھا، کے گھر میں گاؤں کے باقی لوگوں سے زیادہ جدید سہولیات موجود تھیں۔
Published: undefined
اور چونکہ یہ اخبار اس زبان میں نکلتا تھا، جو نہ صرف عوامی مقامات پر، بلکہ گھروں، کھیتوں، اینٹ بھٹوں، کنوؤں، پنچایت بھون اور تحصیل دفاتر میں بھی بولی جاتی تھی، لوگ اس کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ یہ ان کے دلوں کو چھوتا تھا، اور اسے پڑھنے میں انہیں لطف آتا تھا۔ اگر اس نے کچھ لوگوں کو ناراض کیا، تو اس نے دیہاتیوں میں اعتماد بھی پیدا کیا، جو پہلی بار اپنی حقیقت کو کسی اخبار میں دیکھ رہے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے بھی ان مقامات تک جانے کے لیے ہماری محنت کو سراہا، جہاں باقی لوگ جانے سے کتراتے تھے۔
Published: undefined
’خبر لہریا‘ کا بنیادی اصول اور ہمارا ’برانڈ‘ تھا: آپ کی خبر، آپ کی زبان میں۔ یہ کسی خاص گروہ سے وابستہ میڈیا نہیں تھا۔ یہ ایسا میڈیا تھا، جو ذات کی پیچیدہ اور بدلتی سیاست سمیت ہماری مختلف شناختوں کے تضادات اور تناؤ کو نیوز روم میں لانے کی کوشش کرتا تھا۔ ہم ایک دیہی اخبار تھے، جسے ایسی خواتین چلاتی تھیں، جنہیں عوامی علم پیدا کرنے والے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا، لیکن جو دیہی شمالی ہندوستان کے نظامِ زندگی کو اپنی نظر اور زبان میں بیان کر سکتی تھیں۔ اس دور میں میڈیا میں صرف اونچی سمجھی جانے والی ذات کے بااثر مرد اسٹرنگر دیہی خبریں، چینلوں اور اخبارات کو احسان کے طور پر دیا کرتے تھے۔ ہم نے خشک سالی سے متاثر علاقوں میں غریب، حاشیے پر رہنے والی عورتوں کو تلاش کیا، جنہیں ملازمت چاہیے تھی اور جن میں خبروں کی سمجھ تھی۔
Published: undefined
دہلی سے آئے چند صحافیوں اور ماہرینِ تعلیم، اور خواندگی پروگرام سے نکلنے والی چند مقامی دیہی خواتین پر مشتمل ہمارا گروہ ایک مشترکہ گروہ تھا۔ ہم نے مقامی خواتین کو صحافت اور اخبار شائع کرنے کی تربیت دی۔ ہر ایڈیشن کی پانچ سے دس خواتین پر مشتمل مقامی ٹیم سب کچھ کرتی تھی: خبریں جمع کرنے سے لے کر لکھنا، تدوین کرنا، تصاویر بنانا، ڈیزائن کرنا، اخبار چھپوانے کے لیے لے جانا، اور پھر ضلع کے دیہات میں جا کر اسے فروخت کرنا۔ ہم نے باندا ضلع کی بندیلی زبان میں ایک ایڈیشن شروع کیا اور رفتہ رفتہ اسے 6 اضلاع تک پھیلا دیا، 5 اتر پردیش میں اور 1 بہار میں۔ ان ایڈیشنز کو گرانٹس کے ذریعے چلایا جاتا تھا، اس لیے یہ اخبار فروخت، اشتہارات یا کسی اور سہارے پر منحصر نہیں تھے۔
Published: undefined
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک، ہندوستان میں خیراتی فنڈنگ کے قواعد کافی بدل چکے تھے۔ چھوٹے بڑے غیر منافع بخش ترقیاتی ماڈلز کو یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ وہ کتنے مؤثر ہیں۔ کتنے لوگوں تک پہنچے، کیسے پہنچے، کتنے پیسوں میں، اور اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
Published: undefined
خبروں کی دنیا میں ڈیجیٹل پروڈکشن اور میڈیا کے استعمال میں پہلے ہی بڑی تبدیلی آ رہی تھی، جو ان تمام پیمانوں پر گہرا اثر ڈال رہی تھی۔ کام کی ’قدر‘ اب ٹی آر پی جیسے پیمانوں کے ایسے بڑے اعداد سے ناپی جانے لگی، جن کا پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ انہیں یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ ان کا کام فنڈنگ کے قابل ہے۔ […]
Published: undefined
جیسے جیسے اخبار بند ہونے کے دہانے پر آیا، ہمیں ان مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑا، جن سے ہم طویل عرصے سے لڑ رہے تھے۔ خبر لہریا کو ابتدا سے ہی بے شمار ایوارڈز ملے۔ 2004 میں ہی ہمیں صحافت میں خواتین کے لیے چمیلی دیوی جین ایوارڈ ملا اور اس کے بعد کئی مقامی، قومی اور بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈز بھی ملے۔ ایک خیال کے طور پر خبر لہریا نے لوگوں کی توجہ حاصل کی، چاہے قارئین ابھی یہ نہ سمجھ پا رہے تھے کہ علم پیدا کرنے کے مرکز کو تبدیل کرنے سے جاگیردارانہ سماج کو کسی حد تک بدلا جا سکتا ہے۔ لیکن دو چیزیں نہیں بدلیں۔
Published: undefined
پہلی، ہمارے صحافیوں یا ان کی خبروں کو وہ عزت نہیں ملی جو ’مرکزی دھارے‘ کے صحافیوں کو ملتی تھی۔ ہم کسی بڑی یونیورسٹی میں صحافت کی کلاس میں ایک کیس اسٹڈی تو ہو سکتے تھے، لیکن مہمان استاد نہیں؛ ہم بندیل کھنڈ کی کسی خبر کے لیے معلومات دے سکتے تھے، لیکن صحافی نہیں بن سکتے تھے؛ ہم خشک کھیتوں کے سامنے کھینچی گئی شاندار تصویر میں دکھائی دے سکتے تھے، لیکن اسی اخبار میں صحافی نہیں بن سکتے تھے۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہماری صحافت میں معیار یا صلاحیت کی کمی ہے، ہماری جگہ اشرافیہ کے بند دروازوں والے گروہ کے باہر تھی۔
Published: undefined
دوسری چیز جو نہیں بدلی، وہ تھی ہمارے کام کی قدر۔ اخبار شائع ہونے کے بعد اس کی رسائی اور سرکولیشن اہمیت رکھتے ہیں، اور خبر لہریا کی سرکولیشن کبھی اتنی نہیں رہی کہ وہ اپنے اخراجات کو درست ثابت کر سکے۔ دن رات کی طویل پروڈکشن لاگت، مہنگی چھپائی، دور دراز علاقوں تک جانے کا خرچ، اور ہماری ٹیم کو زندگی بھر سہارا دینے کی لاگت، چاہے وہ لکھنے کے لیے ہو یا ان کے باغیانہ کاموں کی حمایت کے لیے۔ اخبار بیچنے سے بہت کم پیسے آتے تھے، اور ہمارے سخت اصولوں سے گزرنے والے چند اشتہارات سے اس سے بھی کم۔
’بڑی آئی پترکار‘ اکیسویں صدی میں صحافت کی کہانی
پبلشر سائمن اینڈ شوسٹر انڈیا
قیمت: 399 روپے
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined