فکر و خیالات

کیا ڈاٹا سیکورٹی ایکٹ صحافت کا گلا گھونٹ دے گا؟... ہرجندر

ہندوستان کے سب سے بڑے میڈیا گھرانوں کا ایک ساتھ عدالت پہنچنا غیر معمولی ہے۔ پریس کی آزادی کی لڑائی میں یہ ادارے شاذ و نادر ہی اتحادی رہے ہیں۔ ایسے میں انکا ایک ساتھ آنا بتاتا ہے کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا بشکریہ&nbsp;@INCIndia</p></div>

تصویر سوشل میڈیا بشکریہ @INCIndia

 

منگل، 27 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے 21 خبر رساں اداروں کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عرضی گزاروں میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈاٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) قانون اور اس کے ضوابط ’صحافت کو مفلوج‘ کر دیں گے۔ ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن کی وکیل سینئر ایڈووکیٹ مادھوی دیوان نے مسئلے کو سیدھے الفاظ میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر مجھے اشاعت کے لیے کسی کی مرضی پر انحصار کرنا پڑے کہ وہ رضامندی دے گا یا نہیں، تو خبریں کیسے رپورٹ کی جائیں گی؟‘‘

ہندوستان کے سب سے بڑے میڈیا گھرانوں کا ایک ساتھ عدالت پہنچنا غیر معمولی بات ہے۔ پریس کی آزادی کی لڑائی میں یہ ادارے شاذ و نادر ہی فطری اتحادی رہے ہیں۔ ایسے میں ان کا ایک ساتھ آنا بتاتا ہے کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ سب سے پہلے قانون کی بنیادی ساخت کو سمجھئے۔ یہ قانون نجی ڈاٹا کا استعمال کرنے والے کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے متعلقہ فرد کی رضامندی حاصل کرنا لازمی قرار دیتا ہے۔ لیکن صحافت کا کام ہی ایسی معلومات سامنے لانا ہے جنہیں کوئی چھپانا چاہتا ہے۔ کسی وزیر نے کبھی اپنی غیر اعلانیہ جائیداد کے بارے میں خبر شائع کرنے کی رضامندی نہیں دی۔ کسی ٹھیکیدار نے بے ضابطگیوں والے ٹینڈر پر رپورٹ شائع کرنے کی منظوری نہیں دی۔

یورپی یونین کے جنرل ڈاٹا پروٹیکشن ریگولیشن میں صحافتی کام کے لیے خصوصی چھوٹ کا انتظام ہے۔ ہندوستانی قانون میں ایسی کوئی چھوٹ نہیں ہے۔ کسی شخص کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور اسے شائع کرنے والے صحافی کو ’ڈاٹا فیڈوشری‘ یعنی ڈاٹا کے تحفظ اور استعمال کے لیے ذمہ دار فریق قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے ایسے ڈاٹا پروٹیکشن بورڈ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑ سکتا ہے جو حکومت سے آزاد نہیں ہے۔ اس قانون کے تحت 250 کروڑ روپے تک کا جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔

وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن کے مطابق، اگرچہ یہ قانون خاص طور پر صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا ہو، لیکن اس کی وسیع اور مبہم زبان اسے ایسا کرنے کا ممکنہ ہتھیار بنا دیتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ طے کون کرے گا کہ ایسی ضرورت کب پیدا ہوئی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

کسی قانون کا جائزہ اس کے بنانے والوں کی منشا سے نہیں لیا جاتا۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کو اس سے کیا کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ ایسا مبہم قانون، جس کے دائرے میں کوئی بھی آ سکتا ہو، حکومت کو اپنے نشانے منتخب کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ کسی خبر کو روکنے کے لیے ہمیشہ پابندی عائد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک نوٹس، ضوابط کی پابندی کا دباؤ یا جرمانے کی دھمکی ہی کسی ایڈیٹر کو خبر شائع کرنے سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس قانون کا اثر صرف نیوز روم تک محدود نہیں رہے گا۔ تحقیقاتی صحافت اکثر حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت حاصل کیے گئے دستاویزات پر منحصر ہوتی ہے۔ ڈی پی ڈی پی قانون نے آر ٹی آئی کی دفعہ (1)8 میں بھی تبدیلی کی ہے۔ یہ دفعہ نجی معلومات سے متعلق ہے۔

اب ایسی معلومات دینے سے بھی رازداری کے نام پر انکار کیا جا سکتا ہے، جن کی پہلے عوامی سطح پر جانچ پڑتال کی جا سکتی تھی۔ ان میں کسی سرکاری افسر کی تعلیمی قابلیت یا سرکاری ٹھیکے سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ سماجی کارکن ارونا رائے کے الفاظ میں، یہ ایک بالواسطہ حملہ ہے۔ ایسے حملے کئی بار براہ راست حملوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ دو ایسے حقوق، جنہیں ایک دوسرے کو مضبوط کرنا چاہیے، اب ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا ہے۔ اگر حکومت ڈاٹا رکھنے والے اداروں سے ’کوئی بھی معلومات‘ مانگ سکتی ہے اور اس سے متاثرہ لوگوں کو اس کی اطلاع دینا ضروری نہیں ہے، تو صحافیوں کے ذرائع کی رازداری بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس حق کے استعمال میں حکومت کی من مانی کا خدشہ بھی برقرار رہتا ہے۔

کوئی ذریعہ صحافی سے اعتماد کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔ اعتماد ٹوٹنے پر راز افشا کرنے والا شخص خاموش ہو جاتا ہے۔ پریس کی آزادی صرف چھاپوں اور دھمکیوں سے ختم نہیں ہوتی۔ یہ خاموشی سے بھی ختم ہوتی ہے، جب انتہائی اہم معلومات رکھنے والے لوگ اپنی حفاظت کے خوف سے کچھ بھی بتانے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہاں صحافت کی ایک نئی جماعت کا سوال بھی ہے۔ یہ شہری صحافی، یعنی سٹیزن جرنلسٹ ہیں۔ خبر رساں اداروں کی جانب سے پیش ہونے والی وکیل نے احتیاط سے کہا کہ ان کے موکل ’روایتی میڈیا ادارے‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ ’’شہری صحافیوں کو لے کر کچھ بحث ہوئی ہے۔‘‘ یہ بحث اہم ہے۔

قانون کے مطابق اگر کوئی صحافی کسی شخص کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے اور انہیں شائع کرتا ہے، تو اسے اس شخص کی رضامندی حاصل کرنی ہوگی۔ دہلی کی صحافی پرگیہ سنگھ اس شرط کو ناقابل عمل مانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں باقاعدگی سے لوگوں کے انٹرویو کرتی ہوں اور موقع پر جا کر معلومات جمع کرتی ہوں۔ یہ امید غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ میں ہر گفتگو سے پہلے رضامندی کا خط لے کر چلوں اور اس پر لوگوں کے دستخط کرواؤں۔‘‘ ہندوستان میں آزادانہ طور پر کام کرنے والے یوٹیوبرز، بلاگ لکھنے والوں، پوڈکاسٹرز اور ایکس پر حقائق کی جانچ کرنے والے صحافیوں کے پاس نہ قانونی شعبہ ہے، نہ بیمہ اور نہ ہی امبانی جیسی بڑی مالی طاقت۔ وہ ایسے کئی کام بھی کرتے ہیں جنہیں کرنے سے بڑے میڈیا ادارے اکثر ہچکچاتے ہیں۔

اگر تعمیل کے لیے پوری ٹیم رکھنے والی کمپنی کو یہ قانون ناقابل عمل لگتا ہے، تو موبائل فون لے کر کام کرنے والا تنہا صحافی اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ خدشہ یہی ہے کہ وہ اپنا کام ہی بند کر دے گا۔ ایسا قانون، جس کا مقابلہ صرف امیر لوگ کر سکیں، صحافت کو امیروں کا کھیل بنا سکتا ہے۔ حکومت کا رویہ اس تشویش کو مزید گہرا کرتا ہے۔ نجی اداروں کے لیے معلومات دینے اور رضامندی حاصل کرنے کی شرائط سخت ہیں۔ دوسری طرف، ’ریاست کی سلامتی‘ جیسے مقاصد کے لیے حکومت کو وسیع چھوٹ حاصل ہے۔ جب نگرانی کے دائرے میں آنے والوں کے لیے ضوابط سخت ہوں اور نگرانی کرنے والوں کے لیے نرم، تو اسے ’رازداری کا تحفظ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اقتدار کے غیر مساوی توازن کا معاملہ ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ڈاٹا کا تحفظ ضروری نہیں ہے۔ ہندوستانی شہریوں کو ڈاٹا لیک ہونے، ان کی سرگرمیوں کی پروفائلنگ اور نجی معلومات کی من مانی فروخت سے بچانے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک اچھا رازداری کا قانون طاقتور لوگوں سے عام شہریوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اسے طاقتور لوگوں کے لیے عوام سے سچ چھپانے کا ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ اس کا حل مشکل نہیں ہے۔ صحافت کے لیے واضح اور مؤثر چھوٹ ہونی چاہیے۔ یہ چھوٹ بڑے میڈیا اداروں کے ساتھ ساتھ آزاد صحافیوں اور شہری صحافیوں کو بھی ملنی چاہیے۔ صحافیوں کے ذرائع کی رازداری کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت 17 نومبر کو مقرر کی ہے۔ جمہوریت رازداری اور پریس کی آزادی، دونوں کا تحفظ کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرے گی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔