
مردم شماری / آئی اے این ایس
2027 کی مردم شماری 6 سال کی تاخیر سے شروع ہوئی ہے اور اسے لے کر لوگوں میں خاصی بے چینی ہے۔ یہ ہندوستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہے، جسے حکومت جدید کاری کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دے رہی ہے۔ تاہم تقریباً 33 لاکھ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور فرنٹ لائن کارکن بھی اس میں مصروف ہیں، جو شدید گرمی میں ہاتھ میں اسمارٹ فون لیے ملک بھر میں گھر گھر جا کر 33 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ بھرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ اس عمل کا محض پہلا حصہ ہے۔
ڈیجیٹل مردم شماری کے وعدے جانے پہچانے ہیں: ریئل ٹائم ڈاٹا اپلوڈ، چند ہی دنوں میں ابتدائی نتائج، اور برسوں کے بجائے مہینوں میں حتمی اعداد و شمار جاری ہو جانا۔ اس میں پہلے سے موجود (اِن بلٹ) ویلیڈیشن چیک اور جیو ٹیگنگ کا مقصد ڈاٹا درج کرنے میں ہونے والی غلطیوں اور گنتی میں ہونے والی کوتاہیوں کو کم کرنا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ منتظمین کو فیلڈ اسٹاف پر بہتر نگرانی رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پھر بھی سوال بجا ہے... کیا یہ ڈیجیٹل مردم شماری تمام ہندوستانیوں کی درست درست گنتی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈاٹا پر مبنی طریقوں سے لوگوں کو خارج کیے جانے کی خوفناک کہانیاں ہمارے سامنے موجود ہوں؟
ڈیجیٹل مردم شماری کی یہ سرکاری کوششیں ایسے دور میں شروع ہوئی ہیں، جب دیگر کئی ڈیجیٹل اقدامات کی ناکامیاں ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے تازہ اور اہم ووٹر فہرستوں کا ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) ہے، جس کے تحت پہلے 2 مرحلوں میں بارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 5.2 کروڑ سے زیادہ نام حذف کر دیے گئے۔ مردم شماری کے کام میں نہ صرف ایس آئی آر کے عمل میں شامل اساتذہ اور اسی کمزور ڈیجیٹل ڈھانچے کا استعمال ہو رہا ہے، بلکہ یہ اس بے اعتمادی کے ماحول میں بھی ہو رہا ہے کہ گنتی کے اس عمل میں بھی شہریوں کو اہلیت کے امتحان سے گزرنا پڑ سکتا ہے، اور جس کی ’بنیاد‘ پر انہیں فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
یہ بے اعتمادی بے بنیاد نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے خودکار ڈاٹا میچنگ پروٹوکول نے شک کی ایک بالکل نئی قسم سامنے لا دی، جسے ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے ’منطقی بے ضابطگی‘ کا نام دیا، اور اس کے تحت 91.46 لاکھ ووٹروں کو نشان زد کیا گیا۔ یہ نظام تو نئے ریکارڈ کو 2002 کے ڈیجیٹلائزڈ ڈاٹا بیس سے ملا کر خاندانی سلسلہ معلوم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ بہت سے پرانے ریکارڈ بنگالی زبان میں ہونے کے باعث خودکار ترجمہ اکثر علاقائی ہجوں اور تلفظ کو غلط پڑھ یا سمجھ لیتا تھا۔ یہی نہیں، والدین اور بچوں کی عمر میں پندرہ سال سے کم فرق ہونے جیسی وجوہات کی بنا پر بھی متعدد خاندان ’نشان زد‘ ہو گئے، اور نتیجتاً بڑے پیمانے پر خودکار الرٹس جاری ہو گئے۔
اگرچہ کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ، دونوں نے ہی مقامی تصدیق کے بجائے مرکزی الگورتھم پر انحصار کرنے پر سوال اٹھائے اور یہ تسلیم کیا کہ کوئی بھی الگورتھم دستاویزات پر مبنی حقیقت سے بالاتر نہیں ہو سکتا، اور الگورتھم سے حاصل ہونے والے اشارے کو حتمی فیصلے کے بجائے صرف ایک انتظامی اشارے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے عمل کو منظوری دے دی، جبکہ ناموں کو حذف کیے جانے کے خلاف زیر التوا اپیلوں پر سماعت اور فیصلہ ہونا اب بھی باقی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی پر انحصار ہی کا معاملہ ہے کہ 2027 کی مردم شماری میں بھی اسی طرح کی مشکلات اور بڑے پیمانے پر غلطیوں کا خطرہ موجود ہے، جس کی گنجائش پہلے کے کاغذی طریقۂ کار میں نہیں تھی۔ گھر گھر جا کر مردم شماری میں یہ تو ممکن ہے کہ کہیں کوئی اندراج واضح نہ ہو یا کوئی گھر رہ جائے، لیکن ڈیجیٹل مردم شماری میں خرابی نہایت خاموشی سے اور بڑے پیمانے پر ہو سکتی ہے۔ الگوردم میں خرابی، یا سرور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی صورت میں، جب تک غلطی کا پتہ چلے گا، لاکھوں ریکارڈ خراب یا حذف ہو چکے ہوں گے۔
جمع کیے جا رہے ڈاٹا کی حفاظت ایک اور بڑی تشویش ہے۔ ہندوستان میں مرکزی سرکاری سروروں میں نقب زنی یا ڈاٹا لیک ہونے کی ایک تاریخ رہی ہے، اور 2027 کی اس منصوبہ بندی کو بھی اس خدشے سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جون 2023 میں کووِن پورٹل سے ڈاٹا لیک ہونے کے بعد ایک ٹیلی گرام بوٹ کے ذریعہ آدھار اور فون نمبر جیسے حساس ریکارڈ تک غیر مجاز رسائی حاصل ہو گئی تھی۔ یہ بات اپنے آپ میں سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ مرکزی ڈاٹا بیس سے ڈاٹا چوری کرنا کس قدر آسان ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا۔ 2018 کے بعد سے آدھار نظام میں ڈاٹا لیک ہونے کے واقعات بار بار سامنے آتے رہے ہیں، اور 2022 میں دہلی کے ایمس پر ہونے والے سائبر حملے نے اسپتال کے سروروں کو کئی ہفتوں تک مفلوج کر دیا تھا۔ نیٹ اور سی یو ای ٹی جیسے مرکزی امتحان کے نظاموں میں بھی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ ان تمام واقعات میں ایک کمزوری مشترک ہے: حساس معلومات کے مرکزی ذخیرے ایک ہی جگہ پر سیکورٹی میں نقب لگنے کا سبب بن سکتے ہیں، جس کی وجہ اکثر کمزور کوڈنگ، اندرونی ملی بھگت یا ناکافی نگرانی سامنے آتی ہے۔ ایک ارب سے زیادہ شہریوں کی ڈیجیٹل مردم شماری کے معاملے میں اس طرح کی نقب زنی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، جس سے مردم شماری کی قانونی حیثیت، اس کی ساکھ اور نظام حکمرانی پر عوام کا اعتماد، دونوں ہی خطرے میں پڑ جائیں گے۔
شاید ’ڈیجیٹل-فرسٹ‘ سوچ کا سب سے بڑا خطرہ اعداد و شمار میں شامل نہ ہو پانے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 57.9 کروڑ آف لائن شہری الگوردم یا ڈیجیٹل نظام سے باہر رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ نظام ’سینسس مینجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم‘ پر منحصر ہے، جو ریئل ٹائم سنکنگ کے لیے یکساں کنیکٹیویٹی کو فرض کرتا ہے، حالانکہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں یہ مفروضہ درست ثابت نہیں ہوتا۔
بہار اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں بار بار بجلی چلے جانے اور نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے زمینی سطح پر ڈیٹا سنک کرنے میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ڈاٹا جمع کرنے والے کے ذاتی فون پر ایپ اچانک کریش ہو جائے یا کنیکٹیویٹی ختم ہو جائے، تو قوی امکان ہے کہ خانہ بدوش قبائل، دستاویزات سے محروم مزدور اور نچلی ذات کے دیہی خاندانوں جیسے حاشیے پر رہنے والے گروہ اندراج سے محروم رہ جائیں گے۔ ایسی صورت میں اگر مردم شماری میں کروڑوں شہری شمار ہی نہ ہو سکیں، تو اسے ڈیجیٹل اختراع کے لیے نہیں بلکہ قومی ریکارڈ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام غائب ہونے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔
کنیکٹیویٹی سے متعلق خدشات کے علاوہ، ڈیجیٹل ٹولز کے ڈیزائن میں ایک مسئلہ پیدا کرنے والی سختی بھی موجود ہے۔ خود معلومات درج کرنے والے پورٹل اور ڈاٹا جمع کرنے والی ایپ میں اصلاح کی گنجائش بہت کم یا بالکل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بار ’گھر کے سربراہ‘ کا تعین کر لینے کے بعد اس اختیار کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح، ایک بار زبان منتخب کر لینے کے بعد اسے تبدیل کرنے کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے۔
جہاں گھروں کی ساخت بدلتی رہتی ہے اور مردم شماری کے متعدد سوالات کے لیے وضاحت اور باریک بینی سے سمجھ کر فیصلہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ڈیجیٹل نظام کی ایسی سختی کے عملی نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ڈراپ ڈاؤن مینیو میں غلط اندراج یا ناقص انداز میں تیار کیا گیا ورک فلو کسی پورے علاقے کے ڈیٹا سیٹ کو برباد کر سکتا ہے۔
ڈاٹا کی قابل اعتماد ہونے کا سوال ڈاٹا جمع کرنے والوں پر یہ الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ سپروائزروں کی جانب سے ان پر ایسا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ فیلڈ سے حاصل ہونے والی معلومات میں رد و بدل کریں، تاکہ سرکاری فلاحی منصوبوں کی ’بہتر‘ تصویر پیش کی جا سکے۔ ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن میں لکڑی یا گوبر کے اُپلے استعمال کرنے والے خاندانوں کو ایل پی جی استعمال کرنے والا بتایا گیا، یا غیر صاف شدہ نل کے پانی کو صاف پینے کے پانی کے طور پر ظاہر کیا گیا، تاکہ سرکاری دعووں سے مطابقت پیدا کی جا سکے۔
درست مردم شماری کی اہمیت محض اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار براہ راست حلقہ بندی سے جڑے ہوتے ہیں۔ انہی کی بنیاد پر یہ بھی طے ہوتا ہے کہ کون سی نشستیں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور خواتین کے لیے محفوظ ہوں گی۔ اس نے، خاص طور پر جنوبی ریاستوں میں، گہری تشویش پیدا کر دی ہے کہ پارلیمانی نشستوں کی نئی تقسیم کا ان کی سیاسی نمائندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ نیا قانونی ڈھانچہ ان خدشات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ جہاں 1948 کے مردم شماری قانون میں معلومات کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کا اصول تھا، وہیں 2023 کے ڈیجیٹل پرسنل ڈاٹا پروٹیکشن قانون کی بعض دفعات تشویش کا باعث ہیں۔
ڈی پی ڈی پی قانون کی دفعہ 17 ’سرکاری اداروں‘ کو وسیع چھوٹ فراہم کرتی ہے، جس کے تحت حکومت ’سرکاری کام کاج‘ کے لیے عام رضامندی حاصل کرنے کی لازمی شرائط کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 39 کے تحت ڈیٹا لیک اور قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق تمام شکایات ’ڈاٹا پروٹیکشن بورڈ آف انڈیا‘ کے پاس جاتی ہیں۔ اس کے باعث لوگ براہ راست دیوانی عدالت (سول کورٹ) سے رجوع نہیں کر سکتے، اور نہ ہی عدالتیں اس قانون کے تحت کی گئی کارروائی کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر سکتی ہیں، جس سے ڈی پی بی عدالتی مداخلت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
ان بے شمار خطرات کے پیشِ نظر روایتی کاغذی مردم شماری، اگرچہ سست محسوس ہوتی ہے، زیادہ دانشمندانہ متبادل ثابت ہوتی۔ کاغذ ان چیزوں کو محفوظ رکھتا ہے جنہیں ڈیجیٹل نظام ختم کر دیتا ہے۔ مثلاً: انسانی فہم، موقع پر اصلاح کی گنجائش، اور سرور یا آسانی سے تبدیل کیے جا سکنے والے ڈاٹا سیٹ سے الگ ایک آزاد آڈٹ کا سلسلہ۔ یہ ٹیکنالوجی کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ ایسے تکنیکی حل زبردستی نافذ کرنے کے خلاف ہے، جو کمزور بنیادی ڈھانچے پر مبنی ہوں یا جن پر لوگوں کو اعتماد نہ ہو۔
مردم شماری 2027 کو ایک قابل اعتماد ڈاٹا بیس بنانے کے لیے، جو حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی تشکیل اور ان کے لیے معلومات فراہم کرنے میں معاون ہو، کئی حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے:
یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کنیکٹیویٹی کی کسی بھی صورتِ حال میں کوئی بھی شہری مردم شماری سے محروم نہ رہ جائے، لازمی آف لائن بیک اپ۔
سی ایم ایم ایس اور اس سے لوگوں کو خارج کرنے والے الگوردمز کا آزادانہ آڈٹ۔
ڈاٹا میں رد و بدل روکنے کے لیے ڈاٹا جمع کرنے والوں کو وسل بلوور تحفظ۔
رازداری کے تحفظ کے لیے ڈی پی ڈی پی ایکٹ کے تحت ریاست اور اس کی ایجنسیوں کو حاصل استثنا سے الگ ایک قانونی حفاظتی حصار۔
دیوانی عدالتوں کے دائرۂ اختیار کی بحالی۔
ہندوستان ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی سہولت کے لیے انسانی ریکارڈ کی قابل اعتماد حیثیت کا سودا نہیں کر سکتا۔ 6 سال کی غیر معمولی تاخیر کے بعد شہریوں کے ڈاٹا کو ڈیجیٹل شکل دینے اور ان کی گنتی میں جلدبازی کرتے ہوئے ہمیں ملک کے سب سے اہم ڈاٹا سیٹ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر آئی اے این ایس