’مودی جی! میں ماں ہوں، مجھے انصاف چاہیے‘، مقتول کیتن کی ماں نے وزیر اعظم کو لکھی جذباتی چٹھی
کیتن کی ماں نے کہا کہ ہر ماں کی طرح میں نے بھی کیتن کو ایک خوبصورت زندگی بناتے، شادی کرتے اور ہمارے ساتھ بڑا ہوتے دیکھنے کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن مجھے اپنے بچے کی آخری رسومات ادا کرنی پڑی۔

پونے کے رئیل اسٹیٹ کاروباری کیتن اگروال کے قتل کے معاملہ میں تحقیقات جاری ہے۔ اس درمیان کیتن کی والدہ راکھی اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک جذباتی چٹھی لکھی ہے۔ یہ چٹھی ای میل کی شکل میں ہے، جس میں انہوں نے وزیر اعظم سے اپنے بیٹے کے لیے انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ خط میں انھوں نے کیتن کی موت کے ذمہ دار افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ راکھی نے لکھا ہے کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن انہیں اپنے بیٹے کے لیے انصاف مانگنے کی خاطر وزیر اعظم کو خط لکھنا پڑے گا۔
راکھی اگروال نے لکھا ہے کہ ’’ہر ماں کی طرح میں نے بھی خواب دیکھا تھا کہ کیتن ایک خوبصورت زندگی گزارے گا، شادی کرے گا اور ہمارے ساتھ بڑا ہوگا۔ لیکن اس کے بجائے مجھے اپنے ہی بیٹے کی آخری رسومات میں شریک ہونا پڑا۔‘‘ کیتن کے قتل کو انتہائی سفاکانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی موت نے خاندان میں ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ راکھی نے جذباتی انداز میں لکھا کہ ’’جس دن کیتن کی موت ہوئی، اسی دن میری دنیا ختم ہو گئی۔ میرے گھر کا ہر گوشہ، اس کا کمرہ، اس کے کپڑے اور اس کی تصویریں مجھے ہر لمحہ اس ناقابل تلافی نقصان کی یاد دلاتی ہیں۔‘‘
غم زدہ والدہ نے اپنے خط میں کیتن کے دادا کے انتقال کا بھی ذکر کیا، جن کا انتقال قتل کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہو گیا تھا۔ انھوں نے خط میں لکھا کہ ’’بزرگ اپنے پوتے کیتن سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنے پوتے کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکے، جس کے باعث خاندان کو چند ہی ہفتوں کے اندر 2 نسلوں کے بچھڑنے کا غم سہنا پڑا۔‘‘ راکھی نے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ہمدردی یا کسی خصوصی رعایت کی بھیک نہیں مانگ رہی، میں صرف انصاف چاہتی ہوں۔ وزیر اعظم اس معاملے پر مناسب توجہ دیں اور بغیر کسی تاخیر کے انصاف دلایا جائے۔‘‘
اس خط میں کئی مقامات پر وہ جذباتی نظر آتی ہیں۔ ایک مقام پر لکھتی ہیں کہ ’’براہ کرم کیتن کو محض ایک اور مقدمہ نہ بننے دیں۔ وہ کسی کا بیٹا تھا، کسی کا پوتا تھا، کسی کا بھائی تھا، لیکن میرے لیے وہ میری پوری دنیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں ہر روز اس کی تصویر دیکھتی ہوں اور اپنے بیٹے سے کہتی ہوں– تمہاری ماں تمہارے لیے لڑ رہی ہے۔ مجھے اس دن کا انتظار ہے جب میں کہہ سکوں گی– بیٹا! تمہیں انصاف مل گیا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ یہ اپیل کیتن کے والد کی جانب سے چند روز قبل صدر دروپدی مرمو کو خط لکھ کر انصاف کا مطالبہ کرنے اور خاندان کے نقصان پر اپنا درد بیان کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ پولیس قتل اور اس سے جڑے حالات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ سیا پہلے بھی کئی مرتبہ کیتن کو لوہ گڑھ قلعہ پر لے جانے کی کوشش کر چکی تھی۔ 31 مئی کو وہ اسے وہاں لے گئی تھی اور 4 جون کو دوبارہ لے جانے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کی والدہ نے اجازت نہیں دی۔ 14 جون کو بھی وہ مبینہ طور پر کیتن کو قلعہ پر لے گئی اور اسے دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی، تاہم وہ بچ گیا تھا۔
پونے دیہی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ سیا گویل اور چیتن نے کیتن کو لوہ گڑھ قلعہ سے نیچے دھکیلنے سے پہلے پونے کے للان نگر واقع سیکٹر-37 میں 2 مرتبہ دھکا دے کر قتل کرنے کی مشق کی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ کیتن کا قتل کئی ہفتوں پر محیط ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔ دونوں ملزمین نے پولیس حراست میں پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے پہاڑی پر اس واردات کی پہلے سے مشق کی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
