کیا پورا خلیجی خطہ جنگ کی زد میں آنے والا ہے؟ متحدہ عرب امارات کا ایران کو سخت انتباہ، سعودی عرب پر بھی حوثیوں کا حملہ
امریکی حملے کے بعد ایران نے کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ اس نے سعودی عرب کے خلاف تھوڑا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اب ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر بھی میزائل داغ دیا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب حالات اس طرف جا رہے ہیں جہاں پورے خلیجی خطے میں جنگ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔ دراصل ایران نے تازہ حملے میں آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ایک ہندوستانی کی موت ہوئی ہے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے حملے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس کے بعد یو اے ای نے تلخ تیوروں کے ساتھ ایران کو وارننگ دے ڈالی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کی صبح کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 ٹینکروں پر حملہ کیا، جس میں ایک ملاح کی موت ہو گئی اور 8 دیگر زخمی ہو گئے۔ ایران نے ’مومباسا‘ اور ’البحیہ‘ نامی ٹینکروں پر 2 کروز میزائل داغے۔ حملے کے بعد دونوں ٹینکروں میں آگ لگ گئی، حالانکہ بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ وزارت دفاع نے کہا کہ ’’یو اے ای اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جواب دینے اور اپنے علاقے، اپنے شہریوں اور یہاں رہنے والوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘ اس دوران دبئی کے اوپر جنگی طیاروں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
امریکہ کے حملے کے بعد ایران نے کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ اس نے سعودی عرب کے خلاف تھوڑا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اب ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر بھی میزائل داغ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا تھا اور اسی کے جواب میں یہ میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے لیے سعودی عرب کی حمایت کی تھی۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ اب سعودی عرب بھی جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے 4 میزائلوں کو انٹرسیپٹ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے بحرین میں موجود امریکی فوج کے پانچویں فلیٹ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب عراق میں بھی میزائل حملے ہوئے ہیں۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کا حامی رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہرمز میں ایران کی جانب سے ٹول وصول کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ حالانکہ اب امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دراصل اب امریکہ نے خود ہی آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی بات کہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’اب امریکہ کو آبنائے ہرمز کا محافظ کہا جائے گا۔ دنیا کے اس انتہائی حساس بحری راستے کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ہونے والے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے، یہاں سے گزرنے والے ہر مال بردار جہاز کے سامان پر 20 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔ اس نظام کو فوری طور پر نافذ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔‘‘
امریکی صدر کے مذکورہ بیان پر ایران نے بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت ہمیشہ ایران نے کی ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے ٹرمپ کی اس بات سے اتفاق کیا کہ جو ملک محفوظ بحری راستہ فراہم کرتا ہے، اسے اس کے بدلے مناسب ادائیگی ملنی چاہیے۔ حالانکہ انہوں نے 20 فیصد ٹیکس کو بہت زیادہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’20 فیصد یقینی طور پر بہت زیادہ ہے۔ ہم منصفانہ ٹیکس لیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
