ونیش پھوگاٹ، تصویر سوشل میڈیا
ہندوستانی کشتی فیڈریشن (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر سنجے سنگھ نے 11 مئی کو گونڈا میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ’’قواعد کسی کے لیے بھی نہیں توڑے جا سکتے‘‘، سابق اولمپین ونیش پھوگاٹ کی سینئر اوپن رینکنگ چمپئن شپ میں حصہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔ گونڈا میں 10 سے 12 مئی تک منعقد یہ چمپئن شپ ونیش کی تقریباً 2 سال بعد مسابقتی کشتی میں واپسی کا راستہ کھولنے والی تھی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس، اور اس نے ہندوستان کی سب سے مشہور خاتون پہلوان اور فیڈریشن کے درمیان تلخی بھرے اس باب کو پھر سے کھول دیا، جسے ونیش نے کبھی عوامی طور پر چیلنج کیا تھا۔
Published: undefined
’ہم ہی صحیح‘ ماننے والے سنجے سنگھ نے میڈیا سے کہا کہ سابق اولمپین ونیش پھوگاٹ کو پہلے 15 صفحات کے وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دینا ہوگا، اس کے بعد ہی ہندوستانی کشتی فیڈریشن 26 جون 2026 تک ان کی معطلی ہٹانے پر غور کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے، ایسے میں ونیش (31) کے 3 روزہ سینئر اوپن رینکنگ چمپئن شپ میں حصہ لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا، جو ایک دن پہلے یعنی 10 مئی کو گونڈا میں شروع ہو چکی تھی۔ محض 10 ماہ کے بچے کی ماں اور 2024 سے ہریانہ میں کانگریس کی رکن اسمبلی ونیش اس امید میں گونڈا پہنچی تھیں کہ انہیں مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ لیکن ڈبلیو ایف آئی نے ان کے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور اس کی وجہ ان کی معطلی اور ان کے خلاف زیر التوا ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ کو بتایا۔
Published: undefined
ونیش کا سوال تھا کہ ’’اگر آپ واقعی 12 دسمبر 2025 کو میرے ذریعے بھیجے گئے خط، جس میں مسابقتی کشتی میں واپسی کا اعلان کیا گیا تھا، پر کارروائی کر رہے تھے تو نوٹس جاری کرنے اور جواب مانگنے میں آپ نے 5 ماہ کا انتظار کیوں کیا؟‘‘ انہوں نے 30 اپریل کی آخری تاریخ سے 2 روز قبل ہی اپنا رجسٹریشن بھی مکمل کر لیا تھا۔ تاہم، وجہ بتاؤ نوٹس انہیں 10 دن بعد، 8 مئی کو ملا۔
Published: undefined
ونیش نے انٹرنیشنل ٹیسٹنگ اتھارٹی (آئی ٹی اے) سے ملا 3 جولائی 2025 کا وہ پیغام بھی شیئر کیا، جو لوزان (سوئٹزرلینڈ) سے بھیجا گیا تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یکم جنوری 2026 سے دوبارہ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے اہل ہوں گی۔ ٹیسٹنگ آفیسر ایسٹیل ڈلوج کے ای میل میں لکھا تھا کہ ’’درحقیقت میں غلطی کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کو یکم جنوری 2026 سے آگے مقابلے میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔‘‘
Published: undefined
سنگھ کا استدلال تھا کہ ونیش نے 2024 کے پیرس اولمپک میں 50 کلوگرام فائنل سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا، اور اس لیے انہیں دوبارہ مقابلے میں واپسی سے پہلے 6 ماہ کا نوٹس دینا ضروری تھا۔ انہوں نے ’دیگر خلاف ورزیوں‘ کا بھی ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ انہیں پہلے ان الزامات کا جواب دینا ہوگا، اور یہ بھی کہ نوٹس میں ہوئی تاخیر محض ایک ’عملی تاخیر‘ تھی۔
Published: undefined
ونیش نے الزامات کے مطالعے، وکلا سے مشورہ اور کاغذات جمع کرنے کے لیے وقت مانگا اور اس دوران انہوں نے خود کو مقابلے میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ ’’میں کوئی خصوصی سہولت نہیں مانگ رہی ہوں، صرف تربیت لینے اور مقابلہ کرنے کا ایک موقع چاہتی ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں گونڈا میں دستیاب تربیتی سہولیات کا استعمال تک کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
Published: undefined
سنگھ کا ’ہم ہی صحیح‘ والا انداز نہیں بدلا۔ میڈیا میں ان کے حوالے سے آیا کہ انہوں نے تو خود ہی اس بات کی ضمانت دی تھی کہ وہ (ونیش) پوری طرح محفوظ رہیں گی اور احاطے میں کہیں بھی بلا روک ٹوک گھوم پھر سکتی ہیں؛ لیکن قواعد تو قواعد ہوتے ہیں۔ اس بیان نے 2023 میں ہوئے پہلوانوں کے اس زوردار احتجاج کی یاد تازہ کر دی، جب ونیش، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا نے دہلی کے جنتر منتر پر اُس وقت کے ڈبلیو ایف آئی سربراہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ احتجاج کے دوران پولیس نے پہلوانوں کو زبردستی ہٹا دیا تھا؛ جس کی تصاویر نے پورے ملک میں شدید غصہ پیدا کر دیا تھا۔ انہی احتجاجی مظاہروں کے باعث گونڈا سے بی جے پی کے اس قدآور لیڈر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ برج بھوشن کے انتہائی قریبی ساتھی سنجے سنگھ کو ڈبلیو ایف آئی کا صدر بنا دیا گیا۔ ظاہر ہے، انتخاب تو ہوا ہی تھا، جس میں سنجے سنگھ کو 40 ووٹ ملے، جبکہ ایک سابق خاتون پہلوان کو صرف سات ووٹ ہی مل سکے۔ گونڈا میں ونیش نے تلخ لہجے میں کہا، ’’کچھ بھی بدلا نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی جوڑا کہ ’’اب تو سارا کام کاج بھی وہی لوگ چلا رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
سابق اولمپین ساکشی ملک نے بھی ونیش کی حمایت میں ایک جذباتی ویڈیو اپیل کرتے ہوئے جاری کی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی سے معاملے میں مداخلت کی درخواست کی گئی۔ ملک نے اس روایت کی یاد دلائی کہ دنیا بھر کے کھیل فیڈریشن اکثر بچے کی پیدائش یا چوٹ کے بعد واپسی کرنے والے اپنے سرکردہ کھلاڑیوں کے لیے قواعد میں نرمی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ونیش ماں بننے کے بعد کھیل میں واپسی کرنا چاہتی ہیں، تو اس کا جشن منایا جانا چاہیے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالی جانی چاہیے۔‘‘
Published: undefined
اس تنازع نے 6 مئی کو ڈبلیو ایف آئی کے ذریعے آئندہ بین الاقوامی ٹرائلس کے لیے جاری نئے اہلیت معیار کی طرف بھی توجہ کھینچی ہے۔ ترمیم شدہ قواعد میں واضح کیا گیا تھا کہ صرف سینئر قومی کشتی چمپئن شپ (احمد آباد، دسمبر 2025)، سینئر فیڈریشن کپ (غازی آباد، فروری 2026) اور انڈر-20 قومی چمپئن شپ (بھلائی، اپریل 2026) کے تمغہ جیتنے والے ہی ٹرائلس کے لیے اہل ہوں گے۔ فیڈریشن نے اعلان کیا کہ 2025 اور 2026 کے منتخب قومی مقابلوں کے تمغہ یافتگان ہی ٹرائلس کے لیے کوالیفائی کریں گے، اور ساتھ ہی زور دے کر کہا کہ ’’گزشتہ کارکردگی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا‘‘۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ قواعد کے وقت اور الفاظ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے تو ونیش کو باہر رکھنے کے لیے ہی خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ونیش کو قصداً باہر رکھ کر ڈبلیو ایف آئی کھلاڑی کے حوصلے اور ہندوستان کی تمغہ جیتنے کی امیدوں، دونوں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ ونیش کوئی عام پہلوان نہیں ہیں۔ وہ 3 بار کی اولمپین ہیں، ریو (2016) اور ٹوکیو (2020) اولمپکس کے درمیان 17 چمپئن شپ کا حصہ رہی ہیں، اور ان میں سے 16 میں تمغے بھی جیتے- نو طلائی، چھ چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ۔ ریو کے بعد انہیں گھٹنے کی سنگین چوٹ سے جوجھنا پڑا، اور ٹوکیو کے بعد انہیں سر کی چوٹ اور کووڈ سے جڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیرس 2024 میں ملی مایوسی کے بعد ونیش نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’’کشتی جیت گئی اور میں ہار گئی۔ میرے خواب ٹوٹ گئے ہیں۔‘‘
Published: undefined
قابل غور بات ہے کہ گونڈا میں ہونے والا ٹورنامنٹ تو سلیکشن ٹرائل بھی نہیں تھا۔ ممکنہ طور پر ونیش صرف اپنی اسٹیمنا اور فٹنس کو پرکھنا چاہتی تھیں، تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ آیا وہ اب بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مقابلہ کر پائیں گی۔ واپسی کرنے کی ونیش کی کوشش کی حمایت کرنے کے بجائے، ڈبلیو ایف آئی تو یہ یقینی بنانے پر آمادہ لگتا ہے کہ وہ کبھی واپسی کر ہی نہ پائیں۔ کھیل مصنفہ شاردہ اگرا کے الفاظ میں کہیں تو ’ہماری سب سے بہترین، سب سے بہادر اور سب سے بے خوف ایتھلیٹ‘ کو تکنیکی، نوکر شاہی اور تعزیری اعتراضات کی بنیاد پر میدان میں دوبارہ اترنے سے روک دیا جائے- یہ نہ صرف ونیش پھوگاٹ کے لیے، بلکہ ہندوستان کے لیے اور اس کھیل کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے، جس کے تئیں وہ پوری طرح وقف ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined