
علامتی تصویر / اے آئی
ایران پر امریکہ اسرائیل جنگ آب و ہوا کے لیے ایک بڑی تباہی کا باعث ثابت ہو رہی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے صرف 14 دنوں میں 50 لاکھ ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا۔ جو کہ 84 ممالک کے مشترکہ اخراج کے برابر ہے۔ گزرتے دنوں کے ساتھ جس تیزی سے جنگی طیارے، ڈرون اور میزائل ہزاروں افراد کو ہلاک کر رہے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں، اس سے مغربی ایشیا ایک بہت بڑے ماحولیاتی قربانی گاہ میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ایک تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ جنگ کے پہلے 14 دنوں میں 50 لاکھ ٹن سے زائد گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا۔ 'دی گارڈین' کا دعویٰ ہے کہ اس کے ساتھ شیئر کیا گیا تجزیہ، فوسل فیول کے انفراسٹرکچر، فوجی اڈوں، شہری علاقوں اور سمندر میں بحری جہازوں پر حملوں سے ہونے والے تباہ کن ماحولیاتی نقصان کی رپورٹنگ میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتا ہے۔
Published: undefined
موسمیاتی اور کمیونٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک ریسرچ ڈائریکٹر اور اس تجزیہ کے شریک مصنف، پیٹرک بِگر کے مطابق، ہر میزائل حملہ ایک گرم، زیادہ غیر مستحکم سیارے پر ایک اور ضرب ہے، جو کسی کو محفوظ نہیں بناتا ۔ ہر ریفائنری میں آگ اور ٹینکر پر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جیواشم ایندھن (فوسل فیول) پر مبنی جغرافیائی سیاست، زندہ رہنے کے قابل سیارے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ آب و ہوا کے بحران کو سپرچارج یا تیزتر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فوسل فیول مفادات کو خارجہ پالیسی پر غالب آنے دیا جائے۔
امریکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کے اندر ہزاروں اہداف پر بمباری کی ہے اور اسرائیل نے لبنان میں مزید سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران اور لبنان دونوں ممالک سے آنے والی رپورٹیں انفراسٹرکچر کی وسیع تباہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تباہ شدہ عمارتیں کاربن اخراج کا تخمینہ لگانے میں سب سے بڑا عنصر ہیں۔ انسانی ہمدردی کی تنظیم، ایرانی ہلال احمر کی رپورٹوں کی بنیاد پر تجزیہ سے پتا چلا کہ تقریباً 20 ہزار شہری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جس سے کل 24 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا۔
Published: undefined
ایندھن، کاربن کے اخراج کا دوسرا بڑا عنصر ہے۔ امریکی بمبار طیارے ایران پر حملے کرنے کے لیے انگلینڈ کے مغرب تک بہت دور دراز علاقوں سے پرواز کر رہے ہیں۔ تجزیہ کے مطابق، پہلے 14 دنوں میں ہوائی جہازوں اور امدادی جہازوں اور گاڑیوں کے ذریعے 15 کروڑ سے 27 کروڑ لیٹر ایندھن استعمال کیا گیا، جس سے مجموعی طور پر 5 لاکھ29 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج ہوا۔
جنگ کی سب سے چونکا دینے والی تصاویر میں سے ایک سیاہ بادل اور کالی بارش تھی جو تہران پرہوئی جب اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت میں ایندھن کے ذخیرے کے چار بڑے ڈپو پر بمباری کی جس سے لاکھوں لیٹر ایندھن جل گیا۔ تجزیہ کے اندازےکے مطابق، اس حملے میں 25 لاکھ سے 59 لاکھ بیرل کے درمیان تیل جل گیا اور اسی طرح خلیجی پڑوسیوں پر ایرانی جوابی کارروائیوں کا تخمینہ 18.8 لاکھ ٹن کاربن اخراج کے برابر رہا۔
Published: undefined
امریکی دعوؤں پر مبنی رپورٹس کے مطابق،پہلے 14 دنوں میں، امریکہ نے 4 طیارے کھوئے جب کہ ایران نے 28 طیارے، 21 بحری جہاز اور تقریباً 300 میزائل لانچر کھوئے۔ اس تباہ شدہ فوجی ہارڈویئر کا تخمینہ 1.72 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج کا ہے۔
مزید برآں، بم، میزائل اور ڈرون بھی ہیں، جن کا استعمال ہر طرف سے وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ دعوؤں کی بنیاد پر کہ پہلے 14 دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر 6 ہزار سے زیادہ اہداف پر بمباری کی، جب کہ ایران نے تقریباً ایک ہزار میزائل اور دو ہزار ڈرونز کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف دفاع کے لیے ایک اندازے کے مطابق 1900 انٹرسیپٹرز فائر کیے، تجزیہ کے مطابق، اندازہ لگایا گیا کہ گولہ بارود نے کاربن اخراج میں تقریباً 55 ہزارٹن کا حصہ ڈالا۔
Published: undefined
مجموعی طور پر، جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں 50 لاکھ 55 ہزار ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا، جو ایک سال میں ایک کروڑ 31 لاکھ ٹن ہوتاہے – جو کہ کویت جیسی درمیانے درجے کی، فوسل فیول پر منحصرمعیشت کے برابر ہی نہیں بلکہ 84 سب سے کم اخراج کرنے والے ممالک کے مجموعی اخراج کے برابربھی ہے۔
اس ریسرچ کے سرکردہ مصنف اور گھانا میں یونیورسٹی آف انرجی اینڈ نیچرل ریسورسز سے منسلک ، فریڈ اوٹو-لاربی نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت کاربن اخراج میں تیزی سے اضافہ ہوگا، جس کی بنیادی وجہ تیل کی تنصیبات کو خطرناک حد تک نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم سب کو موسمیاتی اثرات کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کس قیمت پر ، یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح مطالعے بہت ضروری ہیں۔
Published: undefined
جون 2025 تک، موسمیاتی سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ انسان 130 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کو خارج کر سکتا ہے جس سے ہمیں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ گرم ہونے سے آب و ہوا کو روکنے کے 50 فیصد امکانات مل سکتے ہیں۔ لیکن 40 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی موجودہ شرح سے یہ بجٹ 2028 تک ختم ہو جائے گا۔
فریڈ اوٹو-لاربی کے شریک مصنف پیٹرک بگر نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے فوسل فیول کی فراہمی میں خلل شاید مزید ڈرلنگ کا باعث بنے گا۔ تاریخی طور پر، امریکہ کی وجہ سے ہونے والے ہر توانائی جھٹکے کے بعد نئی ڈرلنگ، نئے ایل این جی ٹرمینلز اور نئے فوسل فیول انفراسٹرکچر میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کے خلاف جاری جنگ سے ایک اور نسل کو کاربن پر انحصار کا سخت خطرہ ہے۔ بگر کے مطابق، یہ سلامتی کی جنگ نہیں ہے۔ یہ فوسل فیول کی سیاسی معیشت کے لیے جنگ ہے – اور اس کی قیمت ادا کرنے والے ایرانی شہری اور دنیا بھر کے محنت کش طبقے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined