فکر و خیالات

امریکہ-ایران امن معاہدہ: بالآخر امریکہ ہتھیار ڈالنے کو مجبور ہوا... اشوک سوین

ٹرمپ جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی سب سے بڑی رکاوٹ نیتن یاہو ہیں۔ اگر نیتن یاہو نے کوئی حملہ کیا تو اس کی آنچ ان تک بھی پہنچے گی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران امن معاہدہ، ویڈیو گریب</p></div>

امریکہ-ایران امن معاہدہ، ویڈیو گریب

 

ڈونالڈ ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بے تاب تھے اور اس کی وجہ بھی تھی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ’مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کو وائٹ ہاؤس سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے تھے کیونکہ انہیں امید نہیں تھی کہ یہ جنگ اتنی طویل ہو جائے گی اور نہ ہی انہوں نے سوچا تھا کہ اس کے ایسے نتائج برآمد ہوں گے۔

اس امن معاہدہ کا وقت بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ (اتوار، 14 جون) کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران تنازعہ کے خاتمے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے فوری طور پر اس کی تصدیق بھی کر دی۔ ٹرمپ اس جنگ کو اس لیے ختم نہیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے تھے۔ وہ اسے اس لیے ختم کر رہے تھے کیونکہ جنگ کو جاری رکھنا نہ صرف اسٹریٹجک طور پر مہنگا اور سیاسی طور پر خطرناک ہو چکا تھا بلکہ ٹرمپ کے لیے امریکہ میں اپنے حامیوں کے سامنے اس کا جواز پیش کرنا بھی تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔

جب جنگ شروع ہوئی تو ٹرمپ کا خیال تھا کہ فتح جلد حاصل ہو جائے گی۔ یہ اندازہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ 100 دن سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ایرانی اقتدار مضبوطی سے قائم ہے۔ گرنے کے بجائے وہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ اس جنگ نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی توقعات کے بالکل برعکس نتائج دیے۔ یہاں تک کہ ایرانی حکومت کے ناقدین بھی ملک پر غیر ملکی حملہ ہوتے ہی حکومت کے حق میں متحد ہو گئے۔ قوم پرستی اکثر وہاں کامیاب ہو جاتی ہے جہاں نظریہ ناکام ہو جاتا ہے۔ بیرونی جارحیت کا سامنا ہونے پر اندرونی اختلافات کم ہو گئے اور مزاحمت ایک متحد کرنے والی قوت بن گئی۔ اس ستم ظریفی کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس اسلامی جمہوریہ کو اقتدار سے بے دخل کرنا مقصود تھا، جنگ نے اسی کو مزید مضبوط بنا دیا، اور اس معاہدے کی سب سے شدید مخالفت ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر کی جانب سے سامنے آئی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے اگر مقابلہ جاری رکھا جاتا تو کہیں زیادہ رعایتیں حاصل ہو سکتی تھیں۔

جنگ ختم کرنے کی ٹرمپ کی خواہش کے پیچھے 2 بڑی تشویشات تھیں۔ پہلی داخلی سیاست تھی۔ یہ جنگ امریکہ میں انتہائی غیر مقبول ہو گئی تھی۔ خاص طور پر ٹرمپ کے حامیوں نے ان کے ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے (معاشی قوم پرستی، سرحدی سلامتی اور مہنگے بیرونی تنازعات سے دور رہنے کے وعدوں) کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیا تھا۔ اس کے برعکس انہوں نے ایک اور ’پسندیدہ جنگ‘ کو سیاسی توجہ اور قومی وسائل نگلتے ہوئے دیکھا۔

ٹرمپ کی اس بے تابی کے پیچھے دوسری بڑی تشویش یوکرین تھی۔ وہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے تھے۔ دیگر وجوہات کے مقابلے میں ان میں خود کو ایسے عظیم رہنما کے طور پر پیش کرنے کی خواہش زیادہ تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہو۔ لیکن ایران جنگ اس خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ یوکرین پر سفارتی توانائی مرکوز کرنے کے بجائے وائٹ ہاؤس نے کئی ماہ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران کو سنبھالنے میں گزار دیے۔ ٹرمپ کے سامنے یہ خطرہ موجود ہے کہ انہیں بھی ایک ایسے امریکی صدر کے طور پر یاد رکھا جائے جو اپنے پیش روؤں کی طرح امریکی بالادستی کی جنگوں کے اسی جال میں پھنس گیا، جس نے ایک سپر پاور کے طور پر امریکہ کے زوال کو تیز کیا اور ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ کے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ اس تنازعہ کے اہم ترین نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ ایران نے اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کی حد کو دوبارہ دریافت کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرکے تہران نے دکھا دیا کہ وہ عالمی معیشت پر کس قدر اثر ڈال سکتا ہے۔ بحری راستے متاثر ہوئے، سپلائی چینز دباؤ میں آئیں، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں اور افراطِ زر کا خوف مختلف براعظموں تک پھیل گیا۔

ایران نے اس جنگ سے ایک اہم سبق سیکھا ہے، جغرافیہ ہی طاقت ہے۔ دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ سمجھے جانے والے اس بحری راستے پر کنٹرول رکھنے کی صلاحیت تہران کو اس کی اقتصادی یا عسکری طاقت سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ عطا کرتی ہے۔ جنگ نے ایرانی قیادت کو دکھا دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے علاقائی مخالفین بلکہ پورے بین الاقوامی نظام پر بھی اس کی قیمت مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران نے یہ بھی سیکھا ہے کہ کشیدگی بڑھا کر مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی قیادت اب جانتی ہے کہ اس نے غیر معمولی فوجی دباؤ کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور امریکہ کو سفارتی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ تجربہ مستقبل کے بحرانوں میں اس کے مذاکراتی طرزِ عمل کو متاثر کرے گا۔ اگر اسرائیل ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرتا ہے یا لبنان میں فوجی کارروائیاں تیز کرتا ہے تو اس بات کا امکان کم ہے کہ تہران وہی ضبط و تحمل دکھائے جو گزشتہ تنازعات میں نظر آیا تھا۔ یہ حقیقت جنیوا معاہدے سے جڑے سب سے اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟

’بلومبرگ‘ کے جائزے کے مطابق امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کرنے کے حقوق اور 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو و ترقیاتی فنڈ تک رسائی حاصل ہوگی۔ تاہم اہم تنازعات بدستور حل طلب ہیں، جن میں لبنان میں اسرائیل کا کردار، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حیثیت اور پابندیوں میں نرمی کی مدت شامل ہیں۔ لیکن ان تفصیلات سے بڑھ کر اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ برقرار رہ پائے گا۔ ایران پابندیوں میں نرمی، ضبط شدہ اثاثوں تک رسائی اور مستقبل کی فوجی کارروائیوں سے متعلق ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا۔ امریکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں اور علاقائی استحکام سے متعلق یقین دہانیاں چاہے گا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو شدید بداعتمادی اور منفی نیت کے زاویے سے دیکھتے رہیں گے۔

ایک بڑا خطرہ تیسرے فریق یعنی بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے ہے۔ برسوں سے ایران کے ساتھ تصادم ان کی سیاسی زندگی کا مرکزی موضوع رہا ہے۔ بہت کم اسرائیلی رہنماؤں نے ایران کو علاقائی سلامتی کے لیے فیصلہ کن خطرہ قرار دینے میں اتنی سیاسی سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اس بیانیے کو کمزور کرتا ہے اور ساتھ ہی ایک ایسے سفارتی عمل سے اسرائیل کی دوری کو نمایاں کرتا ہے جو براہِ راست اس کے سکیورٹی ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ اسرائیل کے اندر کے رد عمل اس مسئلے کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاہدے کو سفارتی شکست قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ نیتن یاہو کے اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا۔ اسرائیلی وزرا کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔

یہ بات ہر اس شخص کو تشویش میں مبتلا کرنی چاہیے جو پائیدار امن کی امید رکھتا ہے۔ لبنان اس معاہدے کی سب سے خطرناک دراڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایران واضح کر چکا ہے کہ جنگ بندی کے لیے امریکہ سے معاہدہ اور لبنان میں جارحیت کا خاتمہ دو الگ معاملات ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی فوجی پوزیشن برقرار رکھے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ اگر اسرائیل لبنان میں نئی فوجی مہم شروع کرتا ہے تو ایران پر جواب دینے کے لیے شدید داخلی دباؤ ہوگا۔ وہ سخت گیر عناصر جو پہلے ہی اس معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، یہ دلیل دیں گے کہ امریکہ یا تو اپنے قریبی اتحادی کو روک نہیں سکتا یا روکنا نہیں چاہتا۔ پورے سفارتی ڈھانچے کی ساکھ چند ہی دنوں میں بکھر سکتی ہے۔

ٹرمپ اس خطرے سے واقف ہیں۔ ان حالات کے باعث مذاکرات پر مجبور ہونے کے بعد، جن کی انہوں نے توقع نہیں کی تھی، اب ان کے پاس ایک اور کشیدگی کو روکنے کی مضبوط ترغیب موجود ہے۔ نومبر کے انتخابات سے قبل کوئی نیا تنازع ان کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوگا۔ یہ ان کی تزویراتی ناکامی کے بارے میں بڑھتے ہوئے تاثر کو مزید مضبوط کرے گا۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کم از کم فی الحال جنگ میں الجھنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ لیکن کیا ان کے پاس نیتن یاہو کو روکنے کی سیاسی قوتِ ارادی ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔

(اشوک سوین سویڈن کی ’اپسالا یونیورسٹی‘ میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈی‘ کے پروفیسر ہیں)

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined