فکر و خیالات

آئین ہند کی پاسداری مضبوط جمہوریت کی علامت...سید قمر عباس نقوی

یومِ جمہوریہ آئینِ ہند کے نفاذ کی یاد دہانی ہے، جو آزادی کی اصل روح، جمہوریت، مساوات اور رواداری کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں شہدائے وطن کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے آئینی اقدار کی پاسداری کا عہد دلاتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

وطنِ عزیز ہندوستان میں 26 جنوری کو قومی تہوار کا درجہ اس لیے حاصل ہے کہ یہ تاریخِ ہند کا وہ روشن اور فیصلہ کن دن ہے جب ملک میں جمہوری طرزِ حکومت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اگرچہ ہندوستان 15 اگست 1947ء کو برطانوی سامراج کے غاصبانہ تسلط سے آزاد ہو چکا تھا، مگر آزادی کی اصل روح یعنی دستورِ ہند کا نفاذ 26 جنوری 1950ء کو عمل میں آیا، اور اسی دن ہندوستان ایک مکمل خود مختار، جمہوری اور آئینی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

یومِ جمہوریہ وفادار ہندوستانیوں کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک مقدس قومی دن ہے، جسے ملک و بیرونِ ملک قومی پرچم ترنگا کے سائے میں بڑی عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ قومی شعور، آئینی وفاداری اور تحریکِ آزادی کے شہدا و مجاہدین کی بے مثال قربانیوں کو یاد کرنے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔

Published: undefined

یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ غاصب اور شاطر انگریزوں نے آزادی ہمیں طشت میں سجا کر نہیں دی بلکہ اس کے حصول کے لیے تمام مذاہب، طبقات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے آزادی کے متوالوں نے طویل عرصہ تک ہر سطح پر جدوجہد کی۔ آزادی کے ان متوالوں پر بے شمار ظلم ڈھائے گئے، قید و بند کی صعوبتیں، جلاوطنی اور سزائے موت تک برداشت کی گئیں۔ انہی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں آزاد شہری ہونے کا شرف نصیب ہوا ہے۔

آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آزادی، جمہوریت اور آئینِ ہند کی قدر کریں۔ شہداء اور مجاہدینِ آزادی کو سچا خراجِ عقیدت، چند تعریفی الفاظ یا تصاویر پر پھول چڑھانے سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ ان کے خوابوں کی تعبیر میں ایک ایسا ہندوستان بنا ہوگا، جہاں مساوات ہو، جہالت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو، گنگا جمنی تہذیب فروغ پائے اور فرقہ واریت کی کوئی جگہ نہ ہو۔

Published: undefined

لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آزادی کی قیمت کو سمجھیں اور جمہوریت کے اصولوں و تقاضوں کی پاسداری کریں۔ یہی مجاہدینِ آزادی اور شہدائے وطن کو سچا خراجِ عقیدت ہے۔

26 جنوری یعنی یومِ جمہوریہ دستورِ ہند سے وفاداری کا دن ہے۔ یہ اُن قائدینِ آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن ہے جنہوں نے ایک ایسے ہندوستان کا تصور کیا تھا جس میں سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی جانوں کی قدر ہو، سماج میں اتحاد، مساوات اور اخوت قائم ہو، معیشت، عدلیہ اور صحافت مضبوط ہوں، کوئی بے روزگار، بے گھر یا بے علم نہ ہو، گنگا جمنی تہذیب فروغ پائے اور فرقہ واریت کا مکمل خاتمہ ہو۔

Published: undefined

آئیے ہم یومِ جمہوریہ کے پُرمسرت موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم ملک میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم بنائیں گے، اور یہ یقینی بنائیں گے کہ دستورِ ہند کے مطابق ہر شہری کو اس کے آئینی حقوق حاصل ہوں۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کسی کو ذات، مذہب یا زبان کے نام پر اس کے حقوق سے محروم تو نہیں رکھا جا رہا، اور ملک کی سالمیت و بھائی چارے کو نقصان پہنچانے والی سازشوں کے خلاف بیدار اور متحد رہیں گے۔ ہمیں اُن تمام عناصر کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو آزادی کے شہیدوں اور مجاہدوں کے مقاصد یعنی ملک کی سالمیت، مساوات، مذہبی رواداری اور سماجی انصاف کو مجروح کرنا چاہتے ہیں۔

یومِ جمہوریہ کے موقع پر قومی راجدھانی دہلی، صوبوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور اضلاع میں سرکاری و غیر سرکاری دفاتر، کالجوں، اسکولوں اور مدارس کو سجایا جاتا ہے۔ قومی پرچم ترنگا پوری آب و تاب کے ساتھ لہرایا جاتا ہے، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، اور عوام کو شہدائے وطن و مجاہدینِ آزادی کی عظیم قربانیوں سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ تقاریر اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے قومی جذبہ بیدار کیا جاتا ہے اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جاتا ہے۔

Published: undefined

یومِ جمہوریہ کی مرکزی اور سب سے شاندار تقریبات ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں صدرِ جمہوریۂ ہند کی صدارت میں کرتویہ پتھ (سابقہ راج پتھ)، وجے چوک اور انڈیا گیٹ کے اطراف منعقد ہوتی ہیں۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم انڈیا گیٹ پر واقع امر جوان جیوتی پر شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ کی آمد پر اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے، قومی ترانہ جن گن من گایا جاتا ہے اور تینوں مسلح افواج کے بینڈ قومی دھنیں بجاتے ہیں۔

وجے چوک سے شروع ہونے والی اس شاندار پریڈ میں بری، بحری اور فضائی افواج، نیم فوجی دستے، دہلی پولیس، این سی سی اور منتخب اسکولوں کے طلبہ شریک ہوتے ہیں۔ مختلف ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور وزارتوں کی جھانکیاں قومی ترقی، ثقافت، تعلیم، تہذیب اور سماجی اقدار کا پیغام پیش کرتی ہیں۔ یہ پریڈ تاریخی لال قلعہ پر اختتام پذیر ہوتی ہے، جہاں شاہراہوں کے دونوں جانب حب الوطنی کے جذبے سے سرشار شہری اس عظیم منظر کے گواہ بنتے ہیں۔ اس موقع پر کسی دوست ملک کے سربراہ کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو بھی کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

یومِ جمہوریہ کے موقع پر صدرِ جمہوریۂ ہند کی جانب سے ملک کے ممتاز شہری اعزازت پدم وبھوشن، پدم بھوشن اور پدم شری سے نوازے گئے معزز اور خوش قسمت شہریوں کے نام کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔

یہ اعزازات اُن شخصیات کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے مختلف شعبۂ حیات میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ ملک کا اہم ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ جو کسی بھی عوامی میدان میں اعلیٰ اور قابلِ قدر و ذِکر خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا اعلان ہر سال نہیں کیا جاتا۔ ’پدم وبھوشن‘ ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے جو غیر معمولی اور ممتاز خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، ’پدم بھوشن‘ ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے جو اعلیٰ نظم و ممتاز خدمات کے اعتراف میں نوازا جاتا ہےـ ’پدم شری‘ ہندوستان کا چوتھا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے جو ممتاز خدمات کے اعتراف میں نوازا جاتا ہے۔ یہ تمام اعزازت زندگی کے اُن تمام شعبوں میں جہاں عوامی خدمت کا عنصر پایا جاتا ہو، جیسے فنون و آرٹ، علم و ادب، عوامی خدمت و سیاست، سائنس و انجینئرنگ، تجارت و صنعت اور کھیل و ثقافت میں اعلیٰ خدمات کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ یہ اعزازت عموماً مارچ/ اپریل کے مہینے میں صدر جمہوریہ کے دستِ مبارک سے پيش کیے جاتے ہیں۔

Published: undefined

ان اعزازات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کا حق دار کوئی بھی ہندوستانی شہری بن سکتا ہے، شرط صرف یہ کہ وہ اپنا ہدف خلوصِ نیت سے محنت اور دیانت کے ساتھ قومی خدمت کو بنا لے۔

آئیے، یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہم یہ حلف لیں کہ اپنے وطنِ عزیز ہندوستان میں جمہوریت کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھیں گے، ملک کو ہر قسم کے شر، فساد اور نفرت سے محفوظ رکھنے کے لئے ملک دُشمن عناصر پر متحدہ طور پر کڑی نظر رکھیں گے اور کسی بھی صورت میں ان غلیظ عناصر کو اُن کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ ہندوستان کی خوبصورتی اور شناخت امن، علم، حکمت، روادری اور اتحاد بنانے رکھنے کی سچی کوشش کرتے رہیں گے، ذاتی مفاد اور لالچ کو قومی مفاد پر کبھی غالب نہیں آنے دیں گے؛ اور ہر میدان میں اپنے ملک کو مضبوط، سربلند اور باوقار بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر کے سچے اور وفادار ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined