
مرکزی بجٹ 2026 / اے آئی
یکم فروری کو پیش کیے گئے مرکزی بجٹ 2026-27 اور اس سے ایک دن قبل جاری ہونے والے اقتصادی سروے میں ایک لفظ بار بار دہرایا گیا اور ہے ’اصلاحات‘۔ سروے کے تقریباً ہر باب میں اس کا ذکر ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ ’’آج ہندوستان ریفارم ایکسپریس پر سوار ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ ان اصلاحات کا مفہوم کیا ہے؟ کیا یہ اصطلاح پالیسی سازوں کی محدود سوچ تک مقید ہے یا اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہونا چاہیے؟
اقتصادی سروے میں پہلے سے جاری اصلاحاتی اقدامات کو نمایاں کیا گیا ہے، جن میں پی ایل آئی (پروڈکشن لنکڈ انسینٹو)، ایف ڈی آئی میں نرمی، لاجسٹکس کی جدید کاری، ٹیکس نظام کو سادہ بنانا، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع، لیبر قوانین میں تبدیلیاں، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، اور کاروبار شروع کرنے اور بند کرنے میں آسانی شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک متاثر کن فہرست ہے، جسے حالیہ اقتصادی نمو اور جی ڈی پی کی ممکنہ 7 فیصد شرحِ نمو کا سہرا دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں احتیاط ضروری ہے۔ کیا واقعی یہ اصلاحات ٹھوس نتائج دے رہی ہیں؟
Published: undefined
پہلا سوال اعداد و شمار کی ساکھ کا ہے۔ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) نے متعدد بار ہندوستان کے جی ڈی پی اعداد و شمار کی معتبریت پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس کے مطابق معیشت کی پیمائش کے طریقہ کار میں کئی خامیاں موجود ہیں، خاص طور پر غیر رسمی شعبے کے حوالے سے۔ دستیاب بیشتر اعداد و شمار منظم شعبے سے متعلق ہیں، جس سے معیشت کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اقتصادی سروے میں اس پہلو پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ نہ تو جی ڈی پی کی پیمائش کے مسائل کی وضاحت کی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ اصلاحات سے حقیقی معنوں میں نمو میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔
دوسرا پہلو مینوفیکچرنگ کے شعبے کا ہے۔ دعوؤں کے برعکس جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ گھٹ کر تقریباً 12 فیصد رہ گیا ہے۔ پی ایل آئی اسکیم اپنے اہداف سے خاصی پیچھے ہے؛ چار برسوں میں مختص فنڈ کا محض دس فیصد ہی جاری ہو سکا ہے۔ اسی طرح اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام بھی ہدف سے پیچھے ہے اور تربیت یافتہ مزدوروں کو مناسب روزگار میسر نہیں آ رہا۔ ایمپلائمنٹ لنکڈ انسینٹو (ای ایل آئی) کے تحت اعلان کردہ اسکیمیں بھی عملی سطح پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں دکھا سکیں۔ اعداد و شمار کو بہتر دکھانے کے لیے معمولی اور بغیر اجرت کے کام کو بھی روزگار میں شمار کیا جا رہا ہے، جو آئی ایل او کی تعریف کے منافی ہے۔ غربت میں کمی کے دعوے بھی این ایچ ایف ایس کے اعداد و شمار کی غلط تقابل پر مبنی ہیں۔
Published: undefined
تیسرا نکتہ ٹیکس پالیسی کا ہے۔ بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس میں رعایتیں منظم شعبے اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 12.75 لاکھ روپے تک بڑھانے سے آبادی کے محض ایک سے دو فیصد افراد مستفید ہوتے ہیں۔ متوسط طبقہ، خصوصاً 7 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کو معمولی فائدہ ملتا ہے۔ براہِ راست ٹیکس وصولی میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی کمی آئی ہے، جس کے اثرات تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں عوامی اخراجات پر مرتب ہو رہے ہیں۔
چوتھا مسئلہ جی ایس ٹی میں کمی کا ہے۔ اس کا بڑا فائدہ بھی منظم شعبے کو ملتا ہے، کیونکہ وہی زیادہ جی ایس ٹی ادا کرتا ہے۔ اس سے ان کے مصنوعات غیر منظم شعبے کے مقابلے میں سستے ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً طلب منظم شعبے کی طرف منتقل ہوتی ہے، جس سے بظاہر کھپت میں اضافہ نظر آتا ہے، لیکن غیر رسمی شعبے کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح معیشت کے اندر عدم توازن مزید گہرا ہوتا ہے۔
Published: undefined
پانچواں پہلو کالے دھن کی معیشت سے متعلق ہے، جو ٹیکس اور ضابطہ جاتی نظام سے بچ نکلتی ہے۔ جی ڈی پی کے مقابلے میں براہِ راست ٹیکس کا تناسب تقریباً 6.5 فیصد ہے، جو دنیا میں کم ترین شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ غیر اعلانیہ دولت کس حد تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا اثر ممکنہ شرحِ نمو پر بھی پڑتا ہے، لیکن اقتصادی سروے میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
چھٹا نکتہ نئے لیبر کوڈز اور منریگا میں مجوزہ تبدیلیوں کا ہے۔ ان اقدامات سے کسانوں اور ٹریڈ یونین سے وابستہ مزدوروں کی پہلے ہی کمزور سودے بازی کی طاقت مزید کم ہو سکتی ہے۔ یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ان اصلاحات کے پیچھے یورپی یونین اور امریکہ کا دباؤ ہے، جو ہندوستانی منڈیوں تک رسائی چاہتے ہیں۔ زرعی اجناس کی قیمتیں کم از کم امدادی قیمت سے نیچے جا سکتی ہیں اور غیر زرعی پیدا کنندگان کے منافع میں کمی ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
ان اصلاحات کا جھکاؤ کاروبار اور امیر طبقے کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔ ہوائی سفر اور مہنگی لگژری ٹرینوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جب کہ عام لوگ بھیڑ بھاڑ والی ٹرینوں اور بسوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایلیٹ پروجیکٹس اور نجکاری کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بجٹ میں پانچ یونیورسٹی ٹاؤن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں موجودہ اعلیٰ جامعات کمزور ہو جائیں گی۔
جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر اطلاعات تک رسائی کے حق (آر ٹی آئی) کو کمزور کیا جاتا ہے اور پالیسیوں کی جانچ کے مواقع محدود کیے جاتے ہیں تو شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ ایک اعلیٰ عدالتی عہدیدار کا یہ بیان کہ فیکٹریوں کی بندش اور ناکافی صنعتی ترقی کے ذمہ دار مزدور ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کو کس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یہ مؤقف آئین میں درج باعزت اجرت کے وعدے سے متصادم ہے۔
Published: undefined
بجٹ میں روزگار کے فروغ کے لیے سیاحت کو کلیدی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، اس سے تجارتی رجحان بڑھنے اور مقامی ثقافت کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ حکومت بیک وقت خود انحصاری اور آزاد تجارتی معاہدوں کی بات کرتی ہے۔ کمزور تحقیق و ترقی کے ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ موجود ہے کہ ملک عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائے، جیسا کہ ماضی کے بعض آزاد تجارتی معاہدوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے۔ چین بغیر کسی ایف ٹی اے کے بھی ہندوستانی منڈی پر حاوی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری ضروری ہے، مگر موجودہ پالیسیوں میں اس سمت واضح عزم دکھائی نہیں دیتا۔
واضح ہے کہ ہندوستان کو طلب کی کمی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اس کا حل ایسی پالیسیاں ہیں جو عدم مساوات کم کریں اور کمزور طبقات کی قوتِ خرید میں اضافہ کریں۔ مگر موجودہ بجٹ اس کے برعکس راستہ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ وسائل کا بڑا حصہ منظم شعبے اور پہلے سے مستفید طبقے کو دیا جا رہا ہے، جب کہ حاشیے پر موجود افراد کو معیاری روزگار اور سماجی تحفظ کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
اقربا پروری اور مخصوص کاروباری گروہوں کو ترجیح دینے سے سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ جب پالیسی سازی میں جانبداری کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو غیر یقینی کیفیت بڑھتی ہے اور سرمایہ کا انخلا شروع ہو جاتا ہے۔ بلند اثاثہ جات رکھنے والے افراد کا بیرون ملک منتقل ہونا اسی رجحان کی علامت ہے۔
حقیقی اصلاحات وہ ہوں گی جو سب کو یکساں مواقع فراہم کریں، غیر رسمی شعبے کو مضبوط بنائیں، اور تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھائیں۔ فی الحال ایک ایسا چکر چل رہا ہے جس میں نظام سے فائدہ اٹھانے والے مزید مراعات حاصل کر رہے ہیں، جبکہ محروم طبقات مزید پیچھے جا رہے ہیں۔ یہی بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی بنیاد ہے۔ اگر اصلاحات کا مقصد وسیع تر عوامی فلاح نہیں، تو محض معاشی اعداد و شمار میں بہتری دیرپا ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
(مضمون نگار ارون کمار جے این یو میں معاشیات کے پروفیسر رہ چکے ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined