فکر و خیالات

ایس آئی آر: چھپی تاناشاہی کا خاموش حملہ... آنند تیل تمبڑے

سوال یہ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ سے نام کیسے ہٹائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ فیصلہ کس نے لیا کہ 6.5 کروڑ لوگ ووٹر نہیں مانے جائیں گے۔ جمہوریت میں تو سمجھا جاتا ہے کہ ووٹر بڑھتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

ووٹر لسٹ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس

 

ہندوستانی الیکشن کمیشن نے 27 اکتوبر 2025 کو ملک کی 9 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیرِ انتظام خطوں میں (بہار میں ایک آزمائشی مرحلے کے بعد) ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرِ ثانی عمل (ایس آئی آر) شروع کیا۔ جنوری 2026 کے آغاز تک عبوری فہرستوں سے ایک چونکا دینے والا نتیجہ سامنے آیا: تقریباً 6.5 کروڑ شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے ہٹا دیے گئے تھے۔

Published: undefined

ہندوستان میں 1950 میں عالمگیر بالغ حقِ رائے دہی کے نفاذ کے بعد سے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں اتنی بڑی کمی کبھی نہیں دیکھی گئی، نہ جنگوں کے دوران، نہ قحط کے وقت اور نہ ہی کووڈ-19 وبا کے دور میں، جس میں لاکھوں جانیں گئیں۔ ووٹر فہرستوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کا حذف ہونا بذاتِ خود شکوک پیدا کرنے اور اس مسئلے کی عام وجوہات کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔

Published: undefined

جمہوریہ کے سامنے اب یہ سوال محض انتظامی نہیں بلکہ وجودی بن چکا ہے: اگر ریاست تازہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے بغیر، پارلیمنٹ میں کسی بحث کے بغیر، کسی شفاف معیار اور بامعنی منصفانہ طریقۂ کار کے بغیر 6.5 کروڑ شہریوں کے نام مٹا سکتی ہے، تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ عالمگیر بالغ حقِ رائے دہی بطور حق اب بھی باقی ہے، یا یہ محض ایک آئینی دکھاوا بن کر نہیں رہ گیا؟ اتنی بڑی تعداد میں آئی اس کمی کی وضاحت صرف 3 ہی صورتِ حال سے ہو سکتی ہے، یا ایسا صرف 3 ہی حالات میں ممکن ہے: اجتماعی اموات، اجتماعی ہجرت، یا اجتماعی طور پر حقِ رائے دہی سے محرومی۔

Published: undefined

ہندوستان میں ان میں سے کوئی بھی صورتِ حال موجود نہیں ہے۔ کووِڈ-19 سے ہونے والی اضافی اموات کے سب سے وسیع اندازے بھی جنہیں حکومت تسلیم نہیں کرتی اس تعداد سے کہیں کم ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وبا کا عروج کئی برس پہلے گزر چکا ہے۔ اگر شرحِ اموات اس کی وجہ ہوتی، تو اموات اس وقت عروج پر ہونی چاہئیں تھیں، نہ کہ اب۔ داخلی ہجرت اس حساب کتاب سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں دیتی۔ جگہ بدلنے سے کوئی شخص اپنی شہریت نہیں کھوتا؛ وہ صرف اپنا مقام تبدیل کرتا ہے۔

Published: undefined

ہجرت سے ووٹر اندراج کا عمل پیچیدہ ضرور ہو جاتا ہے، لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا کہ اس سے ووٹروں کی تعداد لاکھوں میں کم ہو جائے، جب تک کہ نظام ہی ایسا نہ بنا دیا گیا ہو کہ وہ مہاجرین کو شامل کرنے کے بجائے انہیں باہر کا راستہ دکھا دے۔ ایسی صورت میں صرف ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے، اور وہ یہ کہ یہ ووٹروں کے ساتھ سیاسی چھیڑ چھاڑ ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ نام کیسے ہٹائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ 6.5 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹانے کا یہ فیصلہ کس کا تھا اور کس اختیار کے تحت یہ طے ہوا کہ اب یہ لوگ ووٹر نہیں مانے جائیں گے۔

Published: undefined

ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی ایک معمول کا جمہوری عمل ہے۔ نئے ووٹر شامل کیے جاتے ہیں، دستاویزات کی بنیاد پر فوت شدہ ووٹر حذف کیے جاتے ہیں اور غلطیاں درست کی جاتی ہیں۔ یہ ایک تدریجی، محتاط اور بنیادی طور پر مسلسل اضافے کا عمل ہے۔ جمہوری نظام یہ فرض کر کے چلتے ہیں کہ ووٹروں کی تعداد بڑھتی ہے۔ لیکن ایس آئی آر اس منطق سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کمی کی بات کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ آئینی طور پر ثبوت کے اصول کو ہی الٹ دیتا ہے۔ یہاں ریاست کے بجائے شہری سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی موجودگی کی اہلیت ثابت کرے، نہ کہ ریاست نام ہٹانے کی بنیاد پیش کرے۔

Published: undefined

یہ الٹ پھیر محض ایک معمولی طریقۂ کار کا معاملہ نہیں، بلکہ آئینی تخریب ہے۔ عالمگیر بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد ہی شمولیت کے مفروضے پر قائم ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ موت، دوہری شہریت یا شہریت کے خاتمے کا ثبوت فراہم کرے۔ ایس آئی آر اس مفروضے کو ہی شک میں بدل دیتا ہے۔ ووٹنگ شہریت سے حاصل ہونے والا حق نہیں رہتا، بلکہ ایک انتظامی مراعت بن جاتا ہے جو دستاویزات، وقت کی پابندیوں اور بیوروکریسی کے صوابدیدی فیصلوں پر منحصر ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا حق جسے بار بار دوبارہ حاصل کرنا پڑے، وہ حق نہیں رہتا! ایک دہائی سے قومی مردم شماری کا نہ ہونا اس اجتماعی حذف کا محض اتفاقی سبب نہیں بلکہ اس کی معاون حالت ہے۔

Published: undefined

مردم شماری جمہوریت کی بنیادی اساس ہے۔ اسی سے آبادیاتی حقائق طے ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر نمائندگی، فلاح و بہبود اور ووٹر فہرستوں کی توثیق کی جاتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک مردم شماری نہ کرا کے حکومت نے اس بنیاد کو ہی منہدم کر دیا ہے۔ ایسے میں ہمارے پاس اب کوئی ایسا سرکاری پیمانہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے دعووں کی جانچ کی جا سکے۔ اس خلا میں اعداد و شمار ایک پیش گوئی نما بیان تو بن سکتے ہیں جو دعوے پر مبنی ہو، مگر تصدیق شدہ نہیں۔

Published: undefined

یہ ایک نہایت سفاک ستم ظریفی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات مانگتی ہے، اپنی ہی آبادی کی دستاویز بندی سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ کاغذات بھی چنیدہ طور پر مانگے جاتے ہیں اور کمزور لوگوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے بغیر چلایا جانے والا ایس آئی آر عمل، خودمختار طاقت کو تجرباتی جواب دہی سے مکمل طور پر الگ کر دیتا ہے۔ جب ریاست یہ ثابت کیے بغیر کہ 6.5 کروڑ لوگ مر چکے ہیں، ملک چھوڑ چکے ہیں یا ان کی شہریت ختم ہو چکی ہے، انہیں ووٹر فہرستوں سے ہٹا سکتی ہے، تو یہ مان لینا چاہیے کہ وہ اب جمہوریت نہیں چلا رہی بلکہ اس میں ہیرا پھیری کر رہی ہے۔

Published: undefined

انتظامی عمل کبھی بھی غیر جانبدار سماجی ماحول میں انجام نہیں پاتے۔ ان میں سماجیات شامل ہوتی ہے۔ اب کون کامیاب ہوتا ہے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کس کے پاس دستاویزات ہیں، مستقل پتہ ہے، رسمی کارروائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والی خواندگی ہے، غلطیوں پر اعتراض کرنے کا وقت ہے، اور ایسی زندگیاں ہیں جو ریاست کی نظر میں معتبر دستاویزی ثبوت چھوڑتی ہیں۔ کن لوگوں کے نام ہٹنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں: مہاجر مزدور جن کا پتہ بار بار بدلتا رہتا ہے؛ غیر رسمی رہائش گاہوں میں رہنے والے شہری اور دیہی غریب؛ دلت اور آدیواسی جن کے اخراج کی طویل تاریخ ہے اور جن کا بہت کم دستاویزی ریکارڈ موجود ہے؛ مسلمان جن کی شہریت این آر سی، سی اے اے کی بحث کے باعث ہمیشہ مشکوک بنی رہتی ہے؛ غیر رسمی شعبے کے کارکن جن کی محنت کا کوئی ریکارڈ بیوروکریسی میں نہیں ملتا؛ اور وہ شہری جن کی غیر یقینی زندگیاں جدید حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق کاغذی کارروائی کی بنیاد ہی فراہم نہیں کر پاتیں۔

Published: undefined

یہ وہی سماجی طبقہ ہے جسے شامل کرنے میں ہندوستانی جمہوریت کو ہمیشہ مشکل پیش آئی ہے اور جو اقتدار میں موجود طاقتوں کے لیے انتخابی طور پر غیر موزوں ہے۔ یہ بڑی تعداد میں حکمراں جماعتوں کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، قوم پرستانہ تحریکوں کی مخالفت کرتے ہیں اور فلاحی اسکیموں کا فائدہ بھی سب سے کم انہی کو ملتا ہے۔ ایسے میں ان کا ووٹر فہرستوں سے سب سے پہلے غائب ہو جانا نہ تو اتفاق ہے اور نہ ہی حادثہ۔

Published: undefined

خاموشی سے ازسرِنو متعین کی جا رہی شہریت

اب ووٹ دینے کا حق انتظامیہ کی تسلی کے مطابق شہریت ثابت ہونے پر منحصر ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی بغیر کسی پارلیمانی بحث، بغیر کوئی قانون بنائے یا آئینی ترمیم کے واقع ہوئی ہے۔ عالمگیر بالغ حقِ رائے دہی کاغذ پر تو برقرار ہے، لیکن سرکلرز، تصدیقی پروٹوکولز اور انتظامی احکامات کے ذریعے عملی طور پر کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔ اصل بحران ادارہ جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا تصور اکثریت پسندی کی نفی کرنے والے ادارے کے طور پر کیا گیا تھا، جسے انتظامیہ کی مداخلت سے انتخابی غیر جانب داری کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کی طاقت ضبط اور غیر جانب داری کے ذریعے حاصل ہونے والے عوامی اعتماد پر مبنی تھی۔

Published: undefined

اب یہ سب ماضی کی بات ہو چکی ہے۔ اس اختیار کی قانونی حیثیت شدید خطرے میں ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار، شفاف معیارات یا قابلِ اعتماد عوامی جواز کے بغیر بڑے پیمانے پر ڈیٹا حذف کرنے کے عمل کی قیادت کر کے، جس کا نشانہ بنیادی طور پر حاشیے پر رہنے والی آبادی بنتی ہے، کمیشن نے ایک غیر جانب دار ریفری کے طور پر اپنی ذمہ داری ترک کر دی ہے۔ تقرریوں میں بے قاعدگی اور خوشامدانہ داخلی ثقافت کے راستے ادارہ جاتی گرفت نے اسے ووٹر نظام کو ازسرِنو متعین کرنے کے ایک منصوبے کا شریک بنا دیا ہے۔ یہ رجحان ایس آئی آر سے کہیں آگے تک واضح طور پر نظر آتا ہے: ضابطۂ اخلاق کے نفاذ میں امتیاز، حکمران جماعت کی خلاف ورزیوں پر نرمی، اشتعال انگیز بیانات پر خاموشی، اور انتخابی بانڈز جیسے معاملات میں تعمیل کی مثالیں۔

Published: undefined

حامیوں کا استدلال ہے کہ اعتراضات اور دوبارہ تصدیق کے ذریعے حذف شدہ ووٹ درست کیے جا سکتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ مسئلہ غلطی کا نہیں بلکہ منصوبہ بند عمل کا ہے۔ اس کی وسعت بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محرومی کو یقینی بناتی ہے؛ اس کی رفتار تصدیق کو ناممکن بنا دیتی ہے؛ اس کی غیر شفافیت جانچ میں رکاوٹ بنتی ہے؛ اور اس کا بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو اسے اٹھانے میں سب سے زیادہ کمزور ہیں۔

Published: undefined

پہلے ووٹ کے حق سے محروم کرنا، پھر علاج بتانا، یہ حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ان کی خلاف ورزی کو قبول کرنا ہے۔ 6.5 کروڑ شہریوں سے اپنے ووٹ کے لیے ’دوبارہ درخواست‘ دینے کو کہنا ایک آئینی حق کو قابلِ تجدید اجازت نامے میں بدلنے کے مترادف ہے۔ یہ ’علاج‘ بذاتِ خود عدم مساوات کو بڑھاتے ہیں۔ ان کے لیے خواندگی، وقت، پیسہ، رسائی اور استقامت درکار ہوتی ہے، اور یہ وہ وسائل ہیں جو محروم طبقوں کے پاس نہیں ہوتے۔

Published: undefined

بالآخر، جس چیز میں ترمیم کی جا رہی ہے وہ ووٹر فہرست نہیں، بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کون کس سے متعلق شمار ہوتا ہے۔ یہاں سیاسی منطق واضح ہے۔ آبادی کے بڑے حصے کو فلاحی اسکیموں کے ذریعے ’کنٹرول‘ کیا جاتا ہے۔ غذائی راشن، نقد منتقلی، رہائشی منصوبے اور ایندھن سبسڈی انتظامی عنایت کے طور پر دی جاتی ہیں۔

Published: undefined

ایسی حکمرانی میں ووٹنگ بے معنی اور کبھی کبھی غیر موزوں بھی ہو جاتی ہے۔ فلاحی اسکیموں پر انحصار کے باعث مبینہ طور پر ’منضبط‘ آبادی شکرگزاری کے بجائے شکایات کی بنیاد پر ووٹ دے سکتی ہے، گزر بسر کی اسکیموں سے ملنے والی سہولتوں سے زیادہ کا مطالبہ کر سکتی ہے، یا ان طاقتوں کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے جو تقسیم اور نظریاتی نظام کو چیلنج کرتی ہیں۔ ایسی حکمرانی کے لیے جو منصوبہ بند ’سخاوت‘ کے ہتھیار سے حکومت کرتی ہے، انتخابی خود مختاری ایک بوجھ بن جاتی ہے۔

Published: undefined

اسی لیے ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کا حذف ہونا فلاحی سیاست کا تضاد نہیں بلکہ اس کا منطقی تکملہ ہے۔ جو لوگ ووٹ نہیں دے سکتے، ان پر بھی حکومت کی جا سکتی ہے؛ اور جن کے پاس انتخابی طاقت نہیں، وہ بھی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ درحقیقت، جب فوائد سیاسی نفع و نقصان سے الگ ہو کر انتظامی طور پر دیے جانے لگتے ہیں تو ان کا انتظام آسان ہو جاتا ہے۔ ایسی نظام کا مثالی کردار ’شہری‘ نہیں بلکہ دراصل ’فائدہ اٹھانے والا‘ ہوتا ہے، جو فرمانبردار، شکر گزار اور خاموش رہتا ہے۔ نتیجتاً ایک فیصلہ کن تبدیلی سامنے آتی ہے۔ جمہوریت یہ مانتی ہے کہ طاقت شہریوں سے ریاست کی طرف بہتی ہے؛ کہ حکومتیں انتخابات کے ذریعے جواب دہ ہوتی ہیں؛ اور کہ ووٹنگ لوگوں کو بااختیار بناتی ہے۔

Published: undefined

اس وقت جو ہو رہا ہے، اسے خاص طور پر خطرناک بنانے والی بات اس طریقۂ کار کا فریب ہے۔ نہ تو ایمرجنسی کا اعلان ہوا ہے، نہ آئین معطل ہوا ہے، اور نہ ہی سڑکوں پر ٹینک نظر آ رہے ہیں۔ بلکہ ڈیٹابیس، تصدیقی پروٹوکولز اور انتظامی کاغذی کارروائی کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک خاموش حملہ کیا گیا ہے۔ جمہوریت کی جس بنیاد کو مضبوط کرنے میں 7 دہائیوں کی محنت اور وابستگی لگی، اسے آج تکنیکی مجبوریوں کی آڑ لے کر تہس نہس کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک چھپی ہوئی آمریت ہے۔

Published: undefined

تکنیکی ڈھانچے کی بات کوئی اتفاق نہیں۔ جب حقِ رائے دہی سے محرومی کو سیاسی اخراج کے بجائے انتخابی ’صفائی مہم‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو مزاحمت کی دھار کمزور پڑ جاتی ہے۔ شہریوں کے حقوق کے نقصان کو محض دفتری غلطی قرار دے کر آسانی سے قبول کیے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامی زبان جان بوجھ کر کیے گئے جمہوری نقصان کو کم تر دکھاتی ہے۔ کھلا جبر اور اعلان شدہ ایمرجنسی مزاحمت کو بھڑکاتے ہیں؛ طریقۂ کار کی معمول سازی ایسا نہیں کرتی۔ جب اسپریڈشیٹس کے ذریعے لاکھوں لوگ ووٹر فہرستوں سے غائب ہو جاتے ہیں، تو یہ تبدیلی غصے کی حد سے نیچے ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے پلٹنا سیاسی طور پر ناقابلِ تصور ہو جاتا ہے۔

Published: undefined

عالمگیر حقِ رائے دہی ہمارے جمہوریہ کا نوآبادیاتی حکمرانی سے پہلا اور فیصلہ کن انقطاع تھا، وہ اصول جس نے رعایا کو شہری بنایا اور عوامی رائے کو جواز کا منبع ٹھہرایا۔ جب انتظامی کارروائی کے ذریعے لاکھوں، کروڑوں لوگ ووٹ کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں، تو وہ بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ اب اہم سوال یہ نہیں کہ انتخاب کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت کس کو ملتی ہے۔ جو جمہوریتیں ’غیر موزوں‘ ووٹروں کو باہر کر کے آغاز کرتی ہیں، وہ شاذ و نادر ہی وہیں رکتی ہیں۔ وہ طریقۂ کار کے مراحل پر چلتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہیں۔

Published: undefined

6.5 کروڑ ووٹروں کو ہٹا دینا ایک آئینی بحران ہے۔ جب ووٹر قابلِ حذف سمجھے جانے لگیں، شہریت عارضی ہو جائے اور حقوق کو طریقۂ کار کے ذریعے منسوخ کیا جانے لگے، تو جمہوریت محض ایک کھوکھلا ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی زبان تو برقرار رہتی ہے، مگر اس کا جوہر غائب ہو جاتا ہے۔

(آنند تیل تمبڑے ایک مصنف اور شہری حقوق کے کارکن ہیں۔ ’دی وائر‘ کی اجازت سے یہاں شائع کیا گیا ہے)

Published: undefined