
تصویر سوشل میڈیا
از: ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
سرلا مہیشوری کا شمار ہندوستان کی مایہ ناز اور مقبول نیوز اینکرز، ممتاز مصنفین اور سرگرم سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ ان کی بنیادی شناخت دوردرشن کی ایک معروف نیوز اینکر کے طور پر قائم ہوئی۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں وہ خبروں کی پیشکش کے اپنے سنجیدہ، متوازن اور پروقار انداز کے باعث صفِ اول کی نیوز ریڈرز میں شامل رہیں۔ سیٹلائٹ چینلز کی آمد سے قبل کا وہ دور تھا جب نیوز ریڈرز کو غیر معمولی وقار اور مقبولیت حاصل تھی۔ ان کی حیثیت اور شان و شوکت کسی طور بالی ووڈ ستاروں سے کم نہ سمجھی جاتی تھی اور وہ حقیقی معنوں میں عوامی سطح پر سیلیبریٹیز کا درجہ رکھتے تھے۔
Published: undefined
سرلا مہیشوری کی پیدائش راجستھان کے شہر بیکانیر میں ایک ادبی اور سیاسی گھرانے میں ہوئی۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں مارکسی نظریات اور ادب کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اس ماحول نے ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ کولکاتا منتقل ہو گئیں جہاں ان کے سیاسی اور ادبی شعور میں مزید پختگی آئی۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کولکاتا میں حاصل کی جہاں وہ مارکسی نظریات اور سیاست سے وابستہ ہوئیں۔
انہوں نے اپنے کرئیر کا آغاز 1976 میں دوردرشن سے بطور اناؤنسر کیا۔ 1982 میں مستقل طور پر نیوز ریڈنگ سے وابستہ ہوئیں اور 2005 تک اس پیشے سے وابستہ رہیں تقریباً 23 سال تک خبروں کی پیشکش، جو کہ کسی بھی نیوز اینکر کے لیے ایک طویل اور کامیاب عرصہ ہوتا ہے۔
Published: undefined
سرلا کی شخصیت میں بے حد جاذبیت تھی وہ اپنی سادگی، شائستگی، نپے تلے لہجے، درست تلفظ، اپنی دھیمی اور پر اثر آواز کے لیے جانی جاتی تھیں۔ ان کا خبریں پڑھنے کا انداز اتنا سادہ اور واضح تھا کہ ناظرین انہیں بے حد پسند کرتے تھے۔ ان کی جامہ زیبی بہت مشہور تھی۔ اپنے مخصوص طرز لباس کے لیے وہ لاکھوں ناظرین میں مقبول تھیں۔ ان کا کاندھے پر ساڑی کا پلو ڈالنے کا مخصوص انداز (جو اکثر بنگالی یا گجراتی اسٹائل سے مماثلت رکھتا تھا) اس دور میں ایک فیشن بن گیا تھا نیز ان کی ساڑیوں کا کلکشن عوام میں بہت مقبول تھا۔
سرلا مہیشوری کی ہمہ جہت شخصیت کی طرح ان کا سیاسی کریئر بھی بہت متنوع رہا ۔ وہ عملی سیاست میں بھی سرگرم رہیں اور انہوں نے ہندوستانی سیاست پر اپنے انمٹ نقوش مرتسم کیے۔ ان کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) سے تھا۔ وہ اپنی نظریاتی وابستگی اور عوامی مسائل پر مضبوط موقف رکھنے کے لیے جانی جاتی تھیں۔
Published: undefined
سرلا مہیشوری 1990 سے 1996 تک مغربی بنگال سے راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ وہ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کی رکن بھی منتخب ہوئیں اور صوبائی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خواتین کی سماجی و سیاسی ترقی کے لیے آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (ایڈوا) سے بھی وابستہ رہیں اور خواتین کی فلاح و بہبود اور انہیں سماجی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے اس پلیٹ فارم سے پوری تندہی سے کام کیا نیز خواتین کے حقوق اور سماجی و اقتصادی مسائل پر ہمیشہ آواز اٹھائی وہ پارلیمنٹ کی ’آفیشل لینگویج کمیٹی‘ کی ڈپٹی چیئرپرسن رہیں جہاں انہوں نے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کی ترویج پر کام کیا۔
وہ ایک صاحبِ طرز قلمکار اور صحافی بھی تھیں۔ انہوں نے شاعری، ڈرامہ اور سماجی موضوعات پر تقریباً 16 کتابیں تحریر کیں۔ وہ خواتین کے رسالے ’سامیا’ اور ’قلم‘ جیسے معتبر ادبی جریدے کی ادارت سے وابستہ رہیں جس نے نئے لکھنے والوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا۔
Published: undefined
سرلا مہیشوری ایک سنجیدہ فکر رکھنے والی مصنفہ تھیں جن کے کلام اور تحریروں میں سماجی شعور جھلکتا ہے۔ انہوں نے اردو اور ہندی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے نظمیں اور غزلیں کہیں۔ ان کی تخلیقات میں اکثر محنت کش طبقے اور خواتین کے جذبات کی ترجمانی ملتی ہے۔ انہوں نے مارکسی نظریات، ادب اور سماج کے باہمی تعلق پر کئی مقالے اور کتابیں لکھیں۔ ان کی تصنیفات میں ڈرامہ، تنقید اور سماجی مسائل پر مبنی موضوعات شامل ہیں۔
سرلا مہیشوری نے مختصر علالت کے بعد 12 فروری 2026 کو تقریباً 70 برس کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا۔ ان کی وفات دنیائے فکر وفن کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined